اس دوران مصری ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ مصری حکام نے غزہ پٹی سے آنے والے فلسطینی زخمیوں اور مریضوں کے پہلے قافلے کا استقبال کیا۔
فلسطینی غزہ میں داخل ہوتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
غزہ پٹی میں پیر کی شام رفح کراسنگ کے ذریعے پہلی بس پہنچی جس میں۱۲؍ فلسطینی مسافر سوار تھے جو طویل انتظار کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے۔مقامی ذرائع کے مطابق محدود تعداد میں مسافروں کو لے جانے والی یہ بس جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع ناصر طبی کمپلیکس پہنچی جس میں صرف۱۲؍ مسافر شامل تھے۔اس دوران مصری ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ مصری حکام نے غزہ پٹی سے آنے والے فلسطینی زخمیوں اور مریضوں کے پہلے قافلے کا استقبال کیا۔ اسی دوران رفح کراسنگ کے مصری حصے سے بعض افراد فلسطینی حصے کی جانب روانہ ہوئے۔ مصری ذرائع نے وضاحت کی کہ کراسنگ کے آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت پہلے دن مصر سے غزہ واپس جانے والے۵۰؍ افراد کو اجازت دی جائے گی جبکہ اس کے بدلے غزہ پٹی سے۵۰؍ زخمیوں اور مریضوں کو علاج کے لیے مصر منتقل کیا جائے گا۔دوسری جانب اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ تل ابیب۵۰؍ فلسطینیوں کو غزہ پٹی میں داخلے کی اجازت دے گا جبکہ اس کے مقابل۱۵۰؍ مریض اور ان کے ساتھ موجود افراد کو علاج کی غرض سے مصر جانے دیا جائے گا، ایسے وقت میں جب غزہ میں سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً۲۲؍ ہزار زخمی اور مریض رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے منتظر ہیں۔
مصری اور فلسطینی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل نے پیر کو تقریباً دو برس کی بندش کے بعد رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے کو محدود پیمانے پر چلانے کی اجازت دی ہے۔رفح کراسنگ غزہ کی پٹی میں موجود بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے دنیا سے رابطے کا واحد راستہ ہے۔