۱۴؍ویں میئرہرشالی تھویل اس عہدہ پر پہنچنے والی پہلی ایس ٹی خاتون، ڈپٹی میئر راہل داملےبھی بلامقابلہ منتخب۔ شندے سینا ۵۰؍ نشستوں کیساتھ سب بڑی پارٹی، بی جے پی ۵۳؍ سیٹوں کیساتھ دوسرے مقام پر۔
میئر ہرشالی تھویل کوممبئی کلکٹر آنچل گوئل مبارکباد دیتے ہوئے ساتھ میں میونسپل کمشنر ابھینو گوئل۔ تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے ۱۴ ویں میئر کے عہدے کیلئے شیو سینا (شندے ) کی ہرشالی تھویل اور ڈپٹی میئر بی جے پی کے راہل داملے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔ یہ اعلان الیکشن ریٹرننگ آفیسر اور ضلع کلکٹر (شہر ممبئی) آنچل گوئل کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی جنرل باڈی اجلاس میں کیا گیا۔ تقریباً ساڑھے پانچ برس کی طویل انتظامی مدت کے بعد میونسپل کارپوریشن میں عوامی نمائندوں کی قیادت ایک بار پھر قائم ہونے جا رہی ہےجس کے باعث میئر کے انتخاب کے موقع پر ایوان میں موجود تمام سیاسی پارٹیوں کے منتخب نمائندوں کے چہروں پر خوشی صاف جھلک رہی تھی۔
کے ڈی ایم سی کے ۳۰ سالہ سیاسی سفر میں ۳ فروری کا دن ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ہے کارپوریشن کے قیام سے لے کر اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ میئر کا باوقار عہدہ درج فہرست قبائل ( ایس ٹی) کے لئے مختص کیا گیاجس نے برسوں سے رائج سیاسی روایات کو بدل کر سماجی انصاف کی ایک نئی بنیاد رکھی ہے۔ چھٹے عام انتخابات کے بعد ہرشالی تھویل کا ۱۴ ویں میئر کے طور پر بلا مقابلہ انتخاب محض ایک سیاسی فتح نہیں بلکہ سماجی مساوات کا عملی ثبوت ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے شہر کے سیاسی منظر نامے پر مہا یوتی اتحاد کی گرفت کو مضبوط کر دیا ہے۔ ایوان میں شیو سینا (شندے) ۵۳ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری جبکہ بی جے پی ۵۰ نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ مہاراشٹر نونرمان سینا کی جانب سے غیر مشروط حمایت کے بعد حکمراں اتحاد کی عددی برتری ناقابل تسخیر ہو گئی۔ منگل کے روز انتخابی افسر اور ممبئی سٹی کے کلکٹر آنچل گوئل نے باضابطہ تصدیق کی کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں کے لیے مقررہ وقت تک صرف ایک ایک کاغذات نامزدگی موصول ہوئے تھے۔ کسی دوسرے متبادل امیدوار کے سامنے نہ آنے کی بنا پر دونوں امیدواروں کو بلا مقابلہ فاتح قرار دے دیا گیا۔
عیاں رہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال سے کے ڈی ایم سی کا نظم و نسق ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار تھا۔ نومبر ۲۰۲۰ء میں کارپوریٹروں کی آئینی میعاد ختم ہونے کے بعد کورونا وبا کی ہولناکیوں اور پھر قانونی و تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث انتخابات مسلسل التوا کا شکار رہے۔ اس طویل عرصے کے دوران کارپوریشن پربیوروکریسی کا انتظامی نظام نافذ رہا۔اب طویل انتظار کے بعد عوام کی منتخب کردہ قیادت ایوان میں واپس آئی ہے جس سے شہر کے ترقیاتی کاموں میں تیزی آنے کی امید ہے۔