• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل، معاشی و سیاسی صورتحال متاثر

Updated: February 04, 2026, 2:22 PM IST | Tripoli

لیبیا کے سابق حکمراں معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر میں داخل ہو کر گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کی خبر ان کے وکیل، مشیروں اور اہل خانہ نے (متعدد ذرائع کے مطابق) تصدیق کی ہے۔ لیبیا کے پراسیکیوٹر دفتر نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی شناخت ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس قتل کو ملک کی عدم استحکام اور آئندہ انتخابات پر گہرے اثرات کا باعث قرار دے رہے ہیں۔

Muammar Gaddafi`s Son, Saif Al-Islam Gaddafi. Picture: INN
معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی۔ تصویر: آئی این این

لیبیا کے سابق حکمراں معمر قذافی کے مشہور بیٹوں میں سے ایک سیف الاسلام قذافی کو مبینہ طور پر اُن کے رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق قذافی کے وکیل خالد الزیدی، سیاسی مشیر عبداللہ عثمان، خاندانی ذرائع اور متعدد بین الاقوامی میڈیا نے کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ۳؍ فروری ۲۰۲۶ء کو مغربی لیبیا کے شہر زنتان میں پیش آیا، جہاں چار نقاب پوش مسلح افراد نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا، پہلے سیکوریٹی کیمروں کو ناکارہ بنایا اور پھر سیف الاسلام کو گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل آفس نے ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور قانونی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت یا ان سے کوئی گرفتاریاں عمل میں نہیں آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مولٹ بُک: اے آئی چیٹ بوٹس کا فورم، انسانوں کا داخلہ ممنوع

واضح رہے کہ سیف الاسلام قذافی ۵۳؍ سال کے تھے اور انہیں ایک اہم سیاسی شخصیت تصور کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ۲۰۰۰ء کے عشرے میں مغربی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے اور اپنے والد کے دور میں ایک ممکنہ جانشین قرار دیے جانے کی وجہ سے۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور شناخت پیچیدہ رہی ہے۔ ۲۰۱۱ء میں لیبیا کی باغی تحریک نے ان کے والد معمر قذافی کا تختہ الٹ دیا اور سیف الاسلام کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے تقریباً چھ سال تک ایک ملیشیا کے زیرِ حراست وقت گزارا۔ ۲۰۱۷ء میں انہیں عام معافی کے قانون کے تحت رہا کر دیا گیا تھا، لیکن انہیں ۲۰۱۵ء میں طرابلس کی عدالت نے غیر حاضری میں سزائے موت سنائی تھی، نیز بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: شہر ومضافات کے کئی علاقوں میں انہدامی کارروائی

سیف الاسلام نے ۲۰۲۱ء میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزدگی بھی کروائی تھی، مگر سیاسی بحران اور انتخابی عمل میں تعطل کے سبب انتخابات ملتوی ہو گئے۔ ان کی موت لیبیا میں ایک بار پھر سیاسی کشیدگی اور آئندہ صدارتی انتخابی عمل پر سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ خیال رہے کہ لیبیا میں دو متوازی حکومتیں اور طاقت کے مختلف دھڑے موجود ہیں، ایک مغربی طرابلس میں تسلیم شدہ حکومت اور دوسری مشرق میں حکمت عملی قوتوں کی حمایت یافتہ انتظامیہ، جس سے ملک میں عدم استحکام برقرار ہے۔ رواں برس اپریل ۲۰۲۶ء میں متوقع صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے شیڈول کا اعلان پہلے سے موجود تھا، مگر حالیہ قتل نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ معاشی اور سیکوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ قذافی کے بیٹے کی موت سے لیبیا کے اندرونی تقسیم، قومی مفاہمت کے عمل، اور بین الاقوامی مذاکرات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ملک پہلے ہی طویل عرصے سے درپیش معاشی چیلنجز، تیل کی پیداوار اور سیاسی بغاوتوں کے پس منظر میں بحرانوں کا شکار رہا ہے، جبکہ عالمی قوتیں اور خطے کے فریق لیبیا کی مستحکم قیادت اور امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ واقعات کے تسلسل میں اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ لیبیا کی عدالتیں، سیکوریٹی ادارے اور بین الاقوامی برادری کس طرح اس قتل کی تحقیقات کرتے ہیں اور آیا مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK