• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۶ء میں ۷۶ء۱؍ لاکھ ملازمتوں میں کمی ہوئی ہے

Updated: September 24, 2026, 4:09 PM IST | New York

عالمی ملازمتوں کی مارکیٹ میں ۲۰۲۶ء کے دوران بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جنوری سے ۲۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک مختلف کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ یا رپورٹ ہونے والی افرادی قوت میں کمی اور تنظیم نو کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو تقریباً ۷۶ء۱؍لاکھ ملازمتوں پر اثر پڑا ہے۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این

عالمی ملازمتوں کی مارکیٹ میں ۲۰۲۶ء کے دوران بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جنوری سے ۲۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک مختلف کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ یا رپورٹ ہونے والی افرادی قوت میں کمی اور تنظیم نو کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو تقریباً ۷۶ء۱؍لاکھ ملازمتوں  پر اثر پڑا ہے۔ تاہم یہ تعداد دنیا بھر میں ہونے والی تمام برطرفی کا حتمی مجموعہ نہیں ہے کیونکہ کئی کمپنیوں نے فیصد کے حساب سے کٹوتی کا اعلان کیا، بعض نے تعداد ظاہر نہیں کی اور کچھ منصوبے ابھی جاری ہیں۔  
ملازمتوں میں کمی کی اس لہر میںمصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس  ایک اہم عنصر بن کر سامنے آیا ہے۔ متعدد کمپنیاں اے آئی میں سرمایہ کاری بڑھانے، آٹومیشن اپنانے اور اپنے کاروباری ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے افرادی قوت میں کمی کر رہی ہیں۔ تاہم ہر برطرفی کو براہِ راست اے آئی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ کمزور طلب، بڑھتی ہوئی لاگت، وبا کے دوران ضرورت سے زیادہ اسامیاں، کاروباری ماڈل میں تبدیلی اور کارکردگی بڑھانے کا دباؤ بھی اہم عوامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:پاکستان: رقص کرتے دیوہیکل گوریلے پارٹی میں تفریح کا نیارجحان

 ۲۰۲۶ء کی یہ صورتحال صرف سلی کون ویلی یا ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ بینکنگ، آٹو موبائل، ریٹیل، میڈیا، گیمنگ اور صارفین کی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں نے بھی ملازمتوں میں کمی یا تنظیم نو کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔مثلاً  امیزون  نے جنوری میں تقریباً ۱۶؍ ہزار ملازمتیں کم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ اٹلاسیان  نے تقریباً۱۶۰۰؍  ملازمتوں کی کٹوتی کی جو اس کی افرادی قوت کا تقریباً ۱۰؍ فیصد تھی۔ کمپنی نے کہا کہ اس اقدام سے اے آئی اور انٹرپرائز سیلز میں سرمایہ کاری کے لیے وسائل حاصل ہوں گے۔ دوسری جانب  اُبر نے ستمبر تک تقریباً۳۳۰۰؍ ملازمتیں کم کرنے کا منصوبہ بتایا، جسے کمپنی نے انتظامی سطحوں کو کم کرنے اور اپنے کاروباری ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنانے سے جوڑا۔ 
 ملازمتوں میں کمی کا ایک نمایاں مرکز آٹو موبائل صنعت بھی بنی ہے۔  فاکس ویگن  کے تبدیلی کے منصوبے میں دنیا بھر میں مزید تقریباً ۵۰؍ ہزار ملازمتوں میں کمی شامل ہے۔ یہ مستقبل کے لیے منصوبہ بند کمی ہے، اس لیے اسے ۵۰؍ ہزار افراد کی پہلے ہی برطرفی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح  پورشے نے اضافی تقریباً ۵؍ ہزار ملازمتوں میں کمی پر اتفاق کیا ہے، جبکہ جیگویر لینڈ روور نے دو سال کے دوران تقریباً ۴؍ہزار ملازمتیں کم کرنے کا منصوبہ بتایا ہے۔ آٹو سیکٹر میں بلند لاگت، اضافی پیداواری صلاحیت، صارفین کی بدلتی طلب، ٹیرف اور چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنیوں سے بڑھتی مسابقت جیسے عوامل بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:کرینہ کپور نے فلمی دنیا میں خاتون پولیس افسر کی ’مردانہ‘ شبیہ پر سوال قائم کیا

۲۰۲۶ءکے پہلے نو ماہ کے دوران مختلف کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ یا رپورٹ شدہ نمایاں کٹوتیوں میںڈیل  تقریباً ۱۱؍ ہزار، میٹا تقریباً ۸؍ ہزار،گیمبل پروکٹر تقریباً ۷؍ ہزار تک، برٹش امریکن ٹوبیکو تقریباً ۹؍ ہزار، پے پل  تقریباً۴۷۶۰؍ ایکس باکس مائیکروسافٹ  تقریباً۴۸۰۰؍ ، سسکو تقریباً ۴؍ ہزار،ان ٹیوٹ  تقریباً ۳؍ہزار اورمورگن اسٹینلی تقریباً۲۵۰۰؍ ملازمتوں  کی کٹوتی شامل ہے۔  ان اعداد میں بعض تخفیف مکمل طور پر اے آئی سے متعلق نہیں ہیں۔ کئی معاملات میں کمپنیوں نے تنظیم نو، لاگت کم کرنے، انتظامی سطحیں گھٹانے یا کاروبار کی ترجیحات تبدیل کرنے کو بنیادی وجہ بتایا ہے۔ملازمتوں کی اس تبدیلی کا اہم پہلو صرف یہ نہیں کہ کتنی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ  کون سی مہارتیں زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہیں۔کمپنیاں ایسے ملازمین کی ضرورت محسوس کر رہی ہیں جو اے آئی ٹولز کو اپنے کام میں استعمال کر سکیں، ڈیٹا کو سمجھ سکیں، ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کر سکیں اور مخصوص کاروباری مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بار بار ہونے والے اور نسبتاً روایتی کاموں کو آٹومیشن کے ذریعے انجام دینے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے، جبکہ انسانی نگرانی، تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی، خصوصی مہارت اور پیچیدہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اہم رہنے کی توقع ہے۔  ماہرین اور کمپنیوں کی موجودہ سرگرمیوں سے ایک اہم رجحان سامنے آتا ہے: اے آئی لازماً ہر شعبے میں ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے کئی جگہوں پر کام کی نوعیت اور ملازمین سے مطلوبہ مہارتوں کو تبدیل کر رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK