ایران نے سنسنی خیز اعدادوشمار پیش کئے، علی لاریجانی نے امریکہ پر حقائق کوچھپانے کا الزام لگایا، ٹرمپ کو نہ بخشنے کی دھمکی دی۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 9:41 AM IST | Tehran
ایران نے سنسنی خیز اعدادوشمار پیش کئے، علی لاریجانی نے امریکہ پر حقائق کوچھپانے کا الزام لگایا، ٹرمپ کو نہ بخشنے کی دھمکی دی۔
ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرس کے ترجمان نے جنگ میں امریکی فوج کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیل فراہم کرتےہوئے سنسنی خیز اعدادوشمار پیش کئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ۲۴؍ گھنٹوں میں کم از کم ۲۰۰؍ امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ یہ خبر ایران کی ’’تسنیم نیوز ایجنسی‘‘ نے دی ہے۔ اُدھر سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری اور مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دست راست تصور کئے جانے والے علی لاریجانی نے بھی امریکہ پر امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور نقصان کے حوالے سے حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔ علی لاریجانی نے اس کے ساتھ ہی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کیلئے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس کا انتقام لے کررہے گا اور’’ ٹرمپ کو بخشا نہیں جائےگا۔ ‘‘
۲۰۰؍ امریکی فوجی ہلاک یا زخمی
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ’وعدہ صادق‘ کے تحت کئے گئے حملے میں خطہ میں امریکہ کے فوجی انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی ترجمان کے مطابق خطے میں امریکی ففتھ فلیٹ میں ۲۱؍ امریکی فوجی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ العدید ایئر بیس پر تقریباً۲۰۰؍ امریکی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے خلیج فارس کے شمالی حصے میں امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا بھی حوالہ دیا۔ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرس ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا ایک ذیلی ادارہ ہے جس کی ذمہ داری مختلف ایرانی فوجی یونٹس سے متعلق آپریشن کی منصوبہ بندی اور ترتیب دینا ہے۔
امریکہ اموات کو چھپارہاہے: لاریجانی
سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی کارروائیوں کے دوران کئی امریکی فوجی گرفتار کر لئے گئے ہیں اور انہیں جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ جنگ کے تعلق سے امریکہ کے مرکزی کمانڈ’’ سینٹ کام‘‘ کے ایک ترجمان نے الجزیرہ عربی کو بتایا کہ’’امریکی فوجیوں کی گرفتاری کے ایران کے دعوے جھوٹ اور دھوکہ دہی کی ایک اور مثال ہیں۔ ‘‘
دوسری طرف لاریجانی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایرانی حملوں میں صرف ۶؍ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرکے ’’گمراہ کن بیانیہ‘‘ پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب ان ہلاکتوں کو دیگر حادثوں سے جوڑ کر پیش کریگا۔ انہوں نے’ ایکس‘ پوسٹ کیا ہے کہ ’’پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ(ٹرمپ) مختلف بہانوں جیسے حادثاتی واقعات یا من گھڑت واقعات کے تحت آہستہ آہستہ مرنے والوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ ‘‘ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ’’حادثے کا بہانہ بنا کر ہلاکتوں کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔ ‘‘ اس سے قبل انہوں نے ایکس پوسٹ کیا کہ ’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا ہے، لیکن امریکی کہتے ہیں کہ وہ کارروائی میں مارے گئے۔ ان کی بے سود کوششوں کے باوجود حقیقت زیادہ دیر تک چھپائی نہیں جا سکتی۔ ‘‘
خامنہ ای کی شہادت کے ذمہ دار ٹرمپ کو نہ بخشنے کا انتباہ
اس بیچ علی لاریجانی جو ایران کے سیکوریٹی چیف بھی ہیں، ٹرمپ کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں کسی بھی صورت میں نہ بخشنے کا انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کی شہادت کیلئے ٹرمپ کو ’’قیمت چکانی ہوگی۔ ‘‘ ایران کے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتےہوئے لاریجانی نے کہا کہ ’’امریکہ نے ایران کے جواب کے تعلق سے غلط اندازہ لگایاتھا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’وینزویلا میں جو کچھ ہوا ٹرمپ کو اس سے لطف آیا اور وہ سمجھے کہ ایران کے ساتھ بھی جلدی سے ایساہی کرکے نکل جائیں گے مگر وہ پھنس چکے ہیں۔ ‘‘ لاریجانی نے امریکی صدر کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں، انہوں نے جو کچھ کیا ہےاس کی قیمت انہیں چکانی ہوگی۔ انہوں نے ہمارے لیڈر کو مارا ایک ہزار افراد کوقتل کیا۔ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے۔ ‘‘