ماروتی سوزوکی کیلئے ۲۰۱۹ء سب سے برا سال

Updated: January 07, 2020, 4:01 PM IST | Agency | New Delhi

ملک کی کاربنانے والی سب سے بڑی کمپنی ماروتی سوزوکی کے چیئرمین آر سی بھارگو َ نے آٹو سیکٹر کے تعلق سے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ انہوں نےکہا ہے کہ میں نے اپنے ۴۰؍ سال انڈین آٹو انڈسٹری میں گزارے ہیں۔ اس دوران انڈسٹری کیلئے ۲۰۱۹ء سب سے برا سال رہا ہے۔

ماروتی سوزوکی ۔ تصویر : آئی این این
ماروتی سوزوکی ۔ تصویر : آئی این این

  نئی دہلی : ملک کی کاربنانے والی سب سے بڑی کمپنی ماروتی سوزوکی  کے چیئرمین  آر سی بھارگو َ  نے آٹو سیکٹر کے تعلق سے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ انہوں نےکہا ہے کہ میں نے اپنے ۴۰؍ سال  انڈین آٹو انڈسٹری میں گزارے ہیں۔ اس دوران  انڈسٹری کیلئے ۲۰۱۹ء سب سے برا سال رہا ہے۔  آٹو انڈسٹری کی اس بدحالی کیلئے بھارگوَ نے حکومت کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔  انہوں نے  یہاں تک کہا کہ حکومت پالیسی بناتے وقت کار کےساتھ ’ممنوعہ اشیا‘ والا رویہ اختیار کرنا بند کرے۔ 
  آر سی بھارگوَ کی بات کا یقین کیا جائے تو  حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کار کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ کار کی ڈیمانڈ میں کمی آئی ہے۔  انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت ریونیو  میں گراوٹ کے سبب  کار پر اضافی ٹیکس لگاتی ہے تو اس سے معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔  ساتھ ہی نئی نوکریوں پر اضافہ ہو سکتا ہے۔ 
   بھارگوَ کے مطابق حکومت کے سامنے ریونیو  بڑھانے کیلئے ٹیکس   میں اضافہ کرنا مجبوری ہے ، تو سب سے پہلے شراب  اور سگریٹ پر ٹیکس بڑھائے۔ 
 بزنس اسٹینڈر میں چھپی ایک خبر کے مطابق  آر سی بھارگوَ کا خیال ہے کہ ہندوستانیوں کی کار خریدنے کی قوت ارادی کم نہیں ہوئے بلکہ قوت خرید کم ہوئی ہے۔  ساتھ ہی  انہوں نے کار کی ڈیمانڈ میں کمی کی وجہ  اولا اوبیر سروس کی کامیابی کو  ماننے سے صاف انکار کر دیا۔  انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۹ء  میں کار انڈسٹری کئی وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئی ہیں۔   ان میں سے ایک وجہ انہوں نے بی ایس ۴؍ سے بی ایس ۶؍  میں تکنیکی تبدیلی کو قرار دیا  ۔ نیز  ان کے مطابق گاڑیوں کیلئے سیفٹی قانون بڑھانے سے بھی انڈسٹری متاثر ہوئی ہے۔  
    واضح رہے کہ ۲۰۱۹ء میں کاروں کی کئی کمپنیوں نے اپنا پروڈکشن بند کر دیا تھا ۔ جو کاریں انہوں نے تیار کر رکھی تھیں وہ ان کے گودام ہی میں پڑی رہیں انہیں شو روم تک پہنچانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ کمپنیوں نے اپنے ملازمین کی تعداد میں بھی تخفیف کی جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK