Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلوبل صمود فلوٹیلا ۲۶ء: متعدد ممالک کی کشتیوں کا غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کا اعلان

Updated: April 06, 2026, 10:00 PM IST | Paris

فرانس سمیت کئی ممالک کے کارکنوں نے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا ۲۰۲۶ء‘‘ کے تحت غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے بحری مشن شروع کر دیا ہے۔ ماسے (فرانس) سے روانہ ہونے والی کشتیوں نے اٹلی سمیت دیگر یورپی بندرگاہوں کی طرف رخ کیا ہے، جہاں مزید بین الاقوامی جہاز شامل ہوں گے۔ اس فلوٹیلا میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے کارکنوں کی شمولیت متوقع ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ رکاوٹ یا کارروائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ کی ناکہ بندی کو توڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی کوشش کے تحت ’’گلوبل صمود فلوٹیلا ۲۰۲۶ء‘‘ کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں متعدد ممالک کے کارکن، تنظیمیں اور جہاز شریک ہیں۔ اس مہم کے پہلے مرحلے میں فرانس کے شہر Marseille سے تقریباً ۲۰؍ کشتیاں روانہ ہوئیں، جنہیں مقامی شہریوں نے فلسطینی پرچم لہرا کر اور نعرے لگا کر الوداع کیا۔ تازہ پیش رفت کے مطابق یہ کشتیوں کا قافلہ بحیرہ روم کے راستے اٹلی کی بندرگاہوں کی طرف جا رہا ہے، جہاں دیگر یورپی ممالک کے جہاز اس میں شامل ہوں گے۔ منتظمین کے مطابق اس مشن میں اسپین، یونان اور ترکی سے بھی جہازوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور برازیل کے کارکن بھی اس مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے لی استیق پورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صرف امداد پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر غزہ کی صورتحال کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی ہے۔ کارکن نزہا طرابلسی نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران مسلسل بدتر ہو رہا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یونین آف جیوش فرنچ فار پیس کے ترجمان پیئر استمبول نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دیگر مقررین نے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا مطالبہ کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر گزشتہ تقریباً کئی مہینوں سے جاری ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور امدادی سامان کی روک تھام کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر اداروں نے قحط کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۲۵ء میں بھی اسی نوعیت کا ایک فلوٹیلا مشن شروع کیا گیا تھا، جسے اسرائیلی بحریہ نے روک لیا تھا۔ اس کارروائی میں ۴۰؍ سے زائد کشتیوں کو قبضے میں لے لیا گیا اور ۴۵۰؍ سے زیادہ کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

موجودہ مشن کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اسرائیل ایک بار پھر اس فلوٹیلا کو روکنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بحری قافلہ غزہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف انسانی امداد کی فراہمی بلکہ سیاسی دباؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب کئی ممالک میں اس مہم کے حق میں عوامی مظاہرے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غزہ کی صورتحال اب ایک عالمی انسانی مسئلہ بن چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ فلوٹیلا نہ صرف بحری سطح پر بلکہ سفارتی اور سیاسی سطح پر بھی ایک بڑی آزمائش ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان، اسرائیل اور خلیج میں حملے، متعدد ہلاکتیں اور زخمی

گرین پیس بھی صمود فلوٹیلا میں شامل
گرین پیس نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ غزہ کے لیے آنے والے عالمی انسانی ہمدردی کے ’’صمود فلوٹیلا‘‘ میں شامل ہو جائے گا — جو فلسطینی علاقے کی برسوں سے جاری ناکہ بندی کو توڑنے کی ایک کوشش ہے — اور اس مقصد کے لیے تکنیکی و آپریشنل معاونت فراہم کرتے ہوئے ایک جہاز بھی مہیا کرے گا۔ ماحولیاتی تنظیم نے بتایا کہ اس کا جہاز ’’آرکٹک سن رائز‘‘، جس کی لمبائی ۵ء۵؍ میٹر ہے اور جو ۳۰؍ افراد کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس مشن میں حصہ لے گا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن، سوسن عبداللہ، نے ایک بیان میں کہا کہ ’’سمندروں کے تحفظ، ناانصافی کے خلاف مزاحمت اور زندگی کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے میں گرین پیس کی طویل تاریخ اسے ہمارے ۲۰۲۶ء کے موسمِ بہار کے مشن میں ایک مضبوط اضافہ بناتی ہے۔ ہم غزہ پر اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو توڑنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی دھمکیاں، زمینی فوج کی تعیناتی زیر غور

یہ فلوٹیلا ۱۲؍ اپریل، بروز اتوار، اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہونے والا ہے، جبکہ ۱۱؍ اپریل کو عوامی یکجہتی کے اجتماع کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ گرین پیس اسپین کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، ایوا سالدانا، نے کہا کہ ’’جبکہ عالمی حکومتیں غزہ میں نسل کشی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون اور اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے میں ہمت اور عزم کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہیں، صمود فلوٹیلا انسانی یکجہتی کی ایک روشن مثال اور عملی امید کی علامت ہے۔‘‘ منتظمین کے مطابق، اس سال کا فلوٹیلا اب تک کا سب سے بڑا مشن ہوگا، جس میں ایک ہزار سے زائد شرکاء اور ۱۰۰؍ جہاز شامل ہوں گے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK