ملازمتیں ان کے پاس رہیں گی جو اے آئی کے ذریعہ اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر یں گے۔
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 10:55 AM IST | Agency | New Delhi
ملازمتیں ان کے پاس رہیں گی جو اے آئی کے ذریعہ اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر یں گے۔
چین نے۲۰۲۱ء سے۲۰۲۵ء کے درمیان اپنی یونیورسٹیوں میں۱۲؍ ہزار ۲۰۰؍ سے زیادہ انڈر گریجویٹ پروگرام ختم یا معطل کر دیئے جبکہ تقریباً۱۰؍ہزار ۲۰۰؍ نئے پروگرام شروع کیے ہیں۔ یہ اے آئی کی وجہ سے تعلیم اور ملازمتوں کے بدلتے ہوئے منظر نامہ کا اشاریہ ہے۔ آئی ٹی، قانون، کامرس، ترجمہ، ڈیزائن اور لائبریری سائنس جیسے شعبوں میں بڑی تبدیلیاں شروع ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز نے ان کاموں کو یا تو ختم کر دیا ہے یا انہیں بہت محدود کر دیا ہے، جن کیلئے ہر سال لاکھوں طلبہ ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ: میسی کی یادگار ہیٹ ٹرک، ارجنٹائنا نے الجیریا کومات دی
ایچ آر کمپنی’’ ٹیم لیز ‘‘کے مطابق۴۰؍ فیصد کمپنیاں اب ’’ہائبرڈ اسکلز‘‘ یعنی ڈگری کے ساتھ اے آئی ٹولز کی معلومات کو لازمی سمجھتی ہیں۔ نیسکام کی۲۴ء کی رپورٹ کے مطابق ملک میں۸۲؍ فیصد بی سی اے اور ایم سی اے گریجویٹس نے اے آئی ٹولز کی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق ملازمتیں ان افراد کے پاس برقرار رہیں گی جو اے آئی ٹولز کے استعمال سے اپنی پیداواری صلاحیت میں۴۰؍فیصد تک اضافہ کر سکتے ہیں۔آئی بی ایم انسٹی ٹیوٹ فار بزنس ویلیو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی انسانوں کی جگہ نہیں لے گا بلکہ وہ اے آئی میں مہارت حاصل کرنےوالے لوگ ان افراد کی جگہ لے لیں گے جو اے آئی استعمال نہیں کرتے۔ ’’فیوچر آف جابز رپورٹ۲۵ء‘‘ کے مطابق ۲۰۳۰ء تک۲۲؍ فیصد ملازمتیں اس تبدیلی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔