Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: ہاپورمیں کانوڑیوں کے حملے کے بعد کومہ میں مبتلا مسلم ڈرائیو کا انتقال، ۷؍ پرمقدمہ

Updated: August 08, 2026, 10:03 PM IST | Lukhnow

یوپی کے ہاپورمیں کانوڑیوں کے حملے کے نتیجے میں کومہ میں مبتلا عظیم کا انتقال ہوگیا، وہ پانچ دن قبل کانوڑیوں کو لے جانے والی گاڑی کے ساتھ سڑک حادثے کے بعد مبینہ تشدد کا نشانہ بنے تھے۔

Pickup driver Azeem. Photo: X
پک اپ ڈرائیورعظیم۔ تصویر: ایکس

یوپی کے ہاپورمیں کانوڑیوں کے حملے کے نتیجے میں کومہ میں مبتلا پک اپ ڈرائیور عظیم کا انتقال ہوگیا، وہ پانچ دن قبل کانوڑیوں کو لے جانے والی گاڑی کے ساتھ سڑک حادثے کے بعد مبینہ تشدد کا نشانہ بنے تھے۔عظیم کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ۳۱؍ جولائی کو گڑھ ٹول پلازہ کے قریب ان کی پک اپ گاڑی کے کانوڑیوں سے بھرے آٹو سے ٹکرانے کے بعد کانوڑیوں کے ایک گروپ نے انہیں مارا پیٹا۔تاہم، پولیس نے دونوں فریقوں کی شکایات پر مقدمات درج کر لیے ہیں، اور حملے اور اس کے بعد عظیم کی موت کے ارد گرد کے حالات زیر تفتیش ہیں۔عظیم کے والد انتظار حسین کے مطابق، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب عظیم کی پک اپ کانو ڑیوں کو لے جانے والے آٹو سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے بعد، آٹو ڈرائیور اور کئی مسافروں نے مبینہ طور پر عظیم پر حملہ کیا۔ تشدد کے بعد، ہجوم انہیں وہیں پر چھوڑ کر چلا گیا۔بعد ازاں پولیس عظیم کو ابتدائی طور پر علاج کے لیے مقامی اسپتال لے گئی۔ بعد میں انہیں میرٹھ ریفر کیا گیا اور پھر دہلی کے لوک نائک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً پانچ دن زیر علاج رہے اور ۴؍ اگست کو انتقال کر گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ناسک ٹی سی ایس معاملے میں ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل کی گرفتاری

گڑھ مکتیشور پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں آٹو ڈرائیور فرمان کے ساتھ منیش، انکیت، لوکیش اور شیوم (تمام کا تعلق باجھیڑا کھورد گاؤں سے) اور دو نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔یہ مقدمہ بھارتیہ نیا سنہیتا (BNS) کی دفعات کے تحت فساد، جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے اور قتل کی کوشش سے متعلق درج کیا گیا ہے۔تاہم، پولیس نے آٹو ڈرائیور کی شکایت پر ایک کراس ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔اس ایف آئی آر میں عظیم پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنی پک اپ کو آٹو میں ٹکرایا اور ڈرائیور کو کچلنے کی کوشش کی۔ 
عظیم کی موت کے سرٹیفکیٹ میں دماغی خون بہنے کے سبب موت کی وجہ درج ہے، جبکہ ثانوی طور پر دستاویز میں کھوپڑی کے اندر خون بہنا، دماغ کے گرد خون بہنا، دماغ پر دباؤ اور دماغ کی وسیع سوجن، اس کے بعد کارڈیو پلمونری گرفت درج ہے۔سوشل میڈیا پر واقعے کے دعوے گردش کرنے کے بعد، ہاپور پولیس نے کہا کہ تحریری شکایت کی بنیاد پر گڑھ مکتیشور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ جبکہ پولیس نے اس تعلق سے میڈیا کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: ایک ٹیچر والے ۳۲۸۲؍ اسکول بند مگر آندھرا پردیش میں تعداد بڑھ گئی

عظیم کے والد انتظار حسین نے مکتبوب کو بتایا کہ ان کا بیٹا ان کا واحد سہارا تھا جب کہ کئی قبل ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ کچھ سالوں سے بستر پر ہیں اور اپنی دوائیوں، صحت کی دیکھ بھال اور خاندان کی ضروریات کے لیے عظیم پر منحصر تھے۔انہوں نے کہا،’’ہم حملہ آوروں میں سے کسی کو نہیں جانتے۔ پولیس نے خود ملزمان کے نام بتائے۔ ہمیں صرف ایک منصفانہ تحقیقات اور انصاف چاہیے۔دریں اثناءسماج وادی پارٹی کے ریاستی سکریٹری اور علاقے کے رہائشی فراست حسین گاما نے عظیم کی موت کے بعد ان کے خاندان سے ملاقات کی۔مکتبوب میڈیا سے بات کرتے ہوئے، گاما نے کہا کہ خاندان شدید معاشی مشکلات میں زندگی گزار رہا ہے۔ عظیم کی موت نے ان کے بوڑھے والد، بیوہ بیوی اور نومولود بیٹے کو بغیر کفیل کے چھوڑ دیا ہےخاندان اب مبینہ حملے کی منصفانہ تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK