Updated: August 08, 2026, 9:00 PM IST
| Washington
کین نے ٹرمپ کو ان فوجی خطرات سے خبردار کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر حکم دیا جائے تو امریکی افواج ایران کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انتظامیہ کے حکام کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اب ایسے نتیجہ کی تلاش میں ہیں جسے ٹرمپ ایک سیاسی فتح کے طور پر پیش کرسکیں جبکہ سفارت کاری کی گنجائش بھی باقی رہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور ڈین کین۔ تصویر: ایکس
غیرملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام پر نجی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں تناؤ میں کمی لانے کا راستہ تلاش کریں، کیونکہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ دستیاب فوجی اختیارات کے محدود نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جبکہ اس سے وسیع تر جوابی کارروائی کا خطرہ موجود ہے۔
سی این این نے جمعہ کے روز اس معاملے سے واقف تین ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ کین نے اپنے خدشات کو سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت سینئر حکام کے سامنے اٹھایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کین اور دیگر حکام کا ماننا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے تہران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کا امکان کم ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ زمینی حملے سے گریز کو ہی ترجیح دیتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد امریکی ٹیرف کا خطرہ، بل منظور
کین اور دیگر سینئر حکام نے جولائی کے آخر میں پیش کی گئی کشیدگی میں اضافے کی تجاویز پر مبینہ طور پر شک و شبہات کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ بالخصوص امریکی اتحادیوں اور خطے کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی کے خدشات تھے۔ ٹرمپ نے بالآخر خلیجی شراکت داروں کی جانب سے ممکنہ حملوں کی انتباہات کے بعد آپریشن ملتوی کر دیا۔ رپورٹ میں ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز اور گائیڈڈ بارود جیسے امریکی ہتھیاروں کے کم ہوتے ذخائر پر بڑھتی ہوئی تشویش کو بھی اجاگر کیا گیا، جو ایک طویل تنازع کو برقرار رکھنے کی واشنگٹن کی صلاحیت کو محدود کر سکتے ہیں۔
کین نے ٹرمپ کو ان فوجی خطرات سے خبردار کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر حکم دیا جائے تو امریکی افواج ایران کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انتظامیہ کے حکام کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اب ایسے نتیجہ کی تلاش میں ہیں جسے ٹرمپ ایک سیاسی فتح کے طور پر پیش کرسکیں جبکہ سفارت کاری کی گنجائش بھی باقی رہے، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ایک ممکنہ معاہدہ بھی طے پا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ جلد ہی ختم ہوجائے گی: ٹرمپ
فوجی خاندانوں نے یو ایس ایس لنکن کی طویل تعیناتی پر نیوی قائدین کا سامنا کیا: رپورٹ
ایم ایس ناوُ (MS NOW) نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ امریکی فوجیوں کے خاندانوں نے یو ایس ایس لنکن (USS Lincoln) پر موجود ناخداؤں اور میرینز کی ذہنی صحت اور زندگی کے حالات کے خدشات پر نیوی کے سینئر قائدین کا سامنا کیا، جس کی ایران جنگ کے دوران تعیناتی سے واپسی کی کوئی حتمی تاریخ طے کئے بغیر توسیع جاری ہے۔
تقریباً ۲۰۰ اہل خانہ نے جمعرات کے روز سان ڈیاگو میں قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ سے ملاقات کی اور تھکن، ذہنی صحت، خوراک کی قلت، پانی کی آلودگی، باتھ روم کے مسائل، سیکوریٹی اور ڈاک کی فراہمی میں رکاوٹ کے بارے میں خدشات اٹھائے۔ کاؤ نے کہا کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اسٹرائیک گروپ کو بالآخر لنکن کو ریلیف دینے کیلئ تیار کیا جا رہا ہے، لیکن آپریشنل سیکوریٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کوئی تاریخ نہیں بتائی۔
یہ بھی پڑھئے: ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا: ترکی، سعودی، پاکستان کا تاریخی دفاعی معاہدہ
جمعہ تک لنکن کو تعینات ہوئے ۲۵۹ دن ہو چکے ہیں۔ صرف دو پورٹ اسٹاپس کے ساتھ، عملہ مسلسل ۲۰۸ دنوں سے سمندر میں موجود ہے۔ وائس ایڈمرل جوزف کاہل نے خاندانوں پر پڑنے والے دباؤ کا اعتراف کیا جبکہ وائس ایڈمرل ڈگلس ویرسیمو نے کہا کہ بحرین میں لاجسٹک مسائل نے سپلائی میں خلل ڈالا تھا، حالانکہ حالات اب بہتر ہو رہے ہیں۔