آصف اقبال تنہا ؔپر بھی یو اے پی اے لگادیاگیا، ۷؍ دن کا پولیس ریمانڈ

Updated: May 23, 2020, 4:04 AM IST | New Delhi

اتوار کو جامعہ نگر میں تشدد کے کیس میں گرفتار کیاگیا اور منگل کو دہلی فساد کی ’’سازش ‘‘ میں ملوث ہونے کا بھی ملزم بنادیا گیا، ثبوت ہونے کا دعویٰ۔

Asif Iqbal - Photo: INN
آصف اقبال۔تصویر: آئی این این

  شہریت ترمیمی ایکٹ، این پی آر اوراین آرسی کے خلاف مظاہروں  میں  سرگرمی کے ساتھ شرکت کرنےاور پیش پیش رہنےوالے ۲۴؍ سال کے نوجوان آصف اقبال تنہاؔ کو دہلی پولیس نے دہلی فساد کی سارش میں  ملوث قرار دیتے ہوئے اس پر بھی یو اے پی اے لگادیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے اس کی ۷؍ دن کی ریمانڈ بھی حاصل کرلی ہے۔اس کی تصدیق دہلی پولیس نےجمعرات کو کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دہلی پولیس نے گزشتہ سال دسمبر میں  شہری ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کے دوران جامعہ نگر علاقے میں   ہونےوالےتشدد کےمعاملے میں ۲۴؍سالہ آصف اقبال تنہاؔ کو اتوار ۱۶؍ مئی کو گرفتار کیاتھا۔ محض ۲؍ دن بعد منگل کو اس پر فروری میں  ہونے والے فساد کی وسیع تر سازش کا الزام عائد کردیاگیا اور دہلی پولیس کے بدنام زمانہ اسپیشل سیل نے اسے پروڈکشن وارنٹ پر جیل سے اپنی تحویل میں   لینے کے بعد بدھ کو کورٹ میں  پیش کردیا۔ پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ’’ہمارے پاس ثبوت ہے اور ہمیں  وہ ایک زیر تفتیش کیس میں  مطلوب تھا۔اس لئے ہم نے اسے منگل کو پروڈکشن وارنٹ پر گرفتار کیا اوراس کا ۷؍ دن کا ریمانڈحاصل کرلیا ہے۔ ‘‘ یاد رہے کہ اتوار کو جامعہ نگر تشدد معاملے میں  گرفتاری کے بعد پولیس آصف کا ریمانڈ حاصل کرنے میں   ناکام رہی تھی اورعدالت نے اسے ۳۱؍ مئی تک کیلئے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیاتھا تاہم یواے پی اے کااطلاق کرکے اور نئے الزامات عائد کرکے دہلی پولیس آصف اقبال کو ریمانڈ میں لینے میں  کامیاب ہوگئی ہے۔ اسے بدھ کو عدالت میں  پیش کیاگیااوردعویٰ کیاگیاکہ فروری میں  دہلی میں  ہونے والےفسادات کی پوری سازش کا پتہ لگانے کیلئے اس کاریمانڈ ضروی ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس آصف کے خلاف الیکٹرانک ثبوت موجود ہیں  جنہیں  کھا کر اس سے پوچھ تاچھ کی ضرورت ہے۔ کورٹ نے پولیس کی اپیل کوقبول کرتے ہوئے آصف کو ۷؍ دنوں کے ریمانڈ میں دے دیاہے۔ اس سے قبل جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی رکن صفور ہ زرگر، میراں  حیدر، جامعہ کے سابق طلبہ کی تنظیم کے صدر شفاء الرحمٰن اورآپ کے کونسلر طاہر حسین پر دہلی پولیس یو اے پی اے کا اطلاق کرچکی ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بی جےپی لیڈر کپل مشراکی اشتعال انگیز تقریر کےبعد بگڑے ہوئے حالات میں پھوٹ پڑنے والے فساد میں اقلیتوں  کا زبردست جانی و مالی نقصان ہو ا اور اب دہلی پولیس کے مطابق فساد کی سازش بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے ہی رچی تھی۔ ۲۴؍ سالہ آصف اقبال تنہاؔ جامعہ میں  بی اے فارسی کے تیسرے سال کا طالب علم ہے۔ ایس آئی او اور جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ شہری ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے منتظمین میں  شامل تھا۔ فساد کے نام پر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرنےوالوں کو نشانہ بنانے پر دہلی پولیس پر شدید تنقیدیں  ہورہی ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK