بغداد بین الاقوامی کتاب میلہ اس بار غیر معمولی عالمی شرکت کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ۲۸؍ ممالک کے ۶۰۰؍ سے زائد اشاعتی اداروں کی شرکت نے اسے میلے کی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی اجتماع بنا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 9:57 PM IST | Baghdad
بغداد بین الاقوامی کتاب میلہ اس بار غیر معمولی عالمی شرکت کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ۲۸؍ ممالک کے ۶۰۰؍ سے زائد اشاعتی اداروں کی شرکت نے اسے میلے کی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی اجتماع بنا دیا ہے۔
منتظم نے اتوار کو بتایا کہ۲۷؍ویں بغداد بین الاقوامی کتاب میلے میں ۲۸؍ ممالک کے۶۰۰؍ سے زائد مقامی، عرب اور بین الاقوامی اشاعتی ادارے اور ایجنسیاں شریک ہیں، جو میلے کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی شرکت ہے۔ میلے کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ عبدالوهاب الرازی نے انادولو کو بتایا کہ شریک ممالک میں ۱۷؍ عرب اور۱۱؍ غیر عرب ممالک شامل ہیں، جبکہ تحقیقی اور سائنسی ادارے بھی میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میلے میں متعدد ثقافتی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے، جبکہ شریک ناشرین اپنے اسٹالز اور ہالز میں حالیہ شائع ہونے والی دسیوں ہزار کتابیں پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کروشیا: ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ہٹانے میں تاخیر پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاج
الرازی نے میلے میں عراقی شہریوں کی بڑی تعداد میں آمد کو بھی اجاگر کیا، جو نئی شائع ہونے والی کتابیں خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں عراقی قارئین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو تازہ ترین بین الاقوامی، عرب اور عراقی مطبوعات میں گہری دلچسپی ہے، جس سے ان کے علم، تعلیم اور ثقافتی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میلے کا دنیا کیلئے ایک اور پیغام بھی ہے کہ ’’عراق خیریت سے ہے اور بغداد بھی خیریت سے ہے۔ ‘‘ الرازی کے مطابق میلے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عراقی عوام کیلئے مطالعہ اور ثقافت انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ کتاب میلے کا آغاز۲؍ ستمبر کو ہوا تھا اور یہ۱۲؍ ستمبر تک جاری رہے گا۔ الرازی کے مطابق۲۸؍ ممالک کی شرکت میلے کی تاریخ میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔