ملک کے وسطی علاقے سے ۳۰؍ہزار ٹن سے زائد کوڑاکرکٹ ہٹانے کا کام شروع کرنے میں حکومت کی سستی روی کے خلاف احتجاج کرنے کیلئےکروشیا کے دارالحکومت زغریب کے مرکزی چوک میں ہزاروں افراد جمع ہوگئے۔ اس کوڑاکرکٹ کے بارے میں مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اس علاقے کے پینے کے پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔
زغریب میں احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این
ملک کے وسطی علاقے سے ۳۰؍ہزار ٹن سے زائد کوڑاکرکٹ ہٹانے کا کام شروع کرنے میں حکومت کی سستی روی کے خلاف احتجاج کرنے کیلئےکروشیا کے دارالحکومت زغریب کے مرکزی چوک میں ہزاروں افراد جمع ہوگئے۔ اس کوڑاکرکٹ کے بارے میں مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اس علاقے کے پینے کے پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔ اس احتجاج جسے حالیہ برسوں میں کروشیا کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک شمار کیا جا رہا ہے، کو ’لیکائی کیلئے مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نام اس پہاڑی علاقے کی طرف اشارہ ہے جہاں کوڑاکرکٹ ذخیرہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: آتش فشاں کی راکھ سے۵؍ ہوائی اڈے متاثر آپریشن معطل، سیکڑوں پروازیں منسوخ
حکام نے گزشتہ سال انکشاف کیا تھا کہ لیکائی علاقے کے قصبے گوسپچ کے قریب ایک مقام پر۳۴؍ہزار سے ۳۷؍ ہزار ٹن کوڑاکرکٹ موجود ہے۔ اس کوڑاکرکٹ کا زیادہ تر حصہ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۴ء میں اٹلی سے درآمد کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس جگہ کو صاف کرنے کا عہد کیا تھا لیکن ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت برائے نام ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کوڑاکرکٹ جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں طبی اور دیگر صنعتی فضلاء شامل ہیں، لیکائی کی ہوا، مٹی اور پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔ لیکائی اپنے وسیع قدرتی مناظر کی وجہ سے مشہور علاقہ ہے۔ مظاہرین نے حکومت پر اسے ہٹانے میں شدید سستی برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یورپ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے، ڈچ شہروں میں غزہ کی یکجہتی میں پتنگ بازی
مظاہرین نے ’کروشیا کے پھیپھڑے اب مزید سانس لینے کے قابل نہیں رہے‘، ’کروشیا کی تباہی روکو‘ اور ’قدرت معاف نہیں کرتی‘ کے نعروں پر مشتمل بینرس اٹھا رکھے تھے۔ گوسپچ سے اس اجتماع میں شرکت کیلئے آنے والی خاتون ویریکا یورنیاک نے کہا کہ ہم حکومت کے ردعمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس جگہ کو بہت پہلے صاف ہو جانا چاہئے تھا۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ ہمارے بچوں اور ان کے مستقبل کی فکر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔