روشن باغ دھرنے کا۳۳ ؍ واں دن

Updated: February 14, 2020, 3:54 PM IST | Shakir Husain Tashna | Allahabad

جمعرات کو روشن باغ دھرنے کے ۳۳؍ ویں دن فیض احمد فیض کے یو م پیدا ئش پران کو خصوصی طور پریاد کیا گیا اور ان کی نظم ’ ہم دیکھیں گے ‘ پڑھی گئی ۔

  خواتین کے کینڈل مارچ کا ایک منظر ۔ تصویر : انقلاب
خواتین کے کینڈل مارچ کا ایک منظر ۔ تصویر : انقلاب

  الہ آباد : یہاں جمعرات کو روشن باغ دھرنے کے ۳۳؍ ویں  دن فیض احمد فیض کے یو م پیدا ئش پر ان کو خصوصی طور پر  یاد کیا گیا اور ان کی نظم ’ ہم دیکھیں گے ‘ پڑھی گئی ۔  واضح رہےکہ  اس نظم کو ایک مخصوص ذہنیت کے حامل افراد نے ہند و مخالف بتایا تھا۔  جمعرات کو جب فیض احمد فیض کے یوم پیدائش پر ان کی انقلابی  اور معروف نظم ’ ہم  دیکھیں گے‘ پڑھی گئی تو دھرنا گاہ میں مظاہرین کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے نیا سما ں بندھ گیا۔ اس موقع پر خواتین نے کینڈل مارچ بھی نکالا اور ڈراما کا پروگرام بھی ہوا ۔
   روشن باغ دھر نے سے خطاب کرتے ہوئے  سینئر شاعر اکمل بلرامپوری   نے کہا :’’ سی اے اے،این پی آر اور این آر سی یہ ایک ایسا سیا ہ قانون ہے ، اگر یہ ملک میں نافذ ہوتا ہے تو اس قانون سے کروڑوں افراد کی زندگیاں اجیرن ہوجائیں گی۔ حکومت کو چاہئے کہ عوام کے بنیادی مسائل اور ضرورتوں پر توجہ دے ۔یہی مودی جی کہتے تھے کہ ہم مسلم مائوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں لیکن خواتین آج سڑک پر بیٹھی ہوئی ہیں  ، اس کا  وزیر اعظم کو احساس نہیں  ہے اور ان کی آواز نہیں سنی جا رہی ہے ۔ آسام میں   این آر سی کی صورتحال سب کے سامنے ہے جس میں لاکھوں برادران وطن باہر ہو گئے ۔ اس کے باوجود حکومت کے ذریعہ اس بات کی تشہیر کرائی جا رہی ہے کہ اس سے ایک مخصوص طبقہ متاثر ہوگا  ،یہ  فریب ہے، اس سے  تمام طبقات پریشان ہوں گے ۔ اس سیاہ قانون کے خلاف سب کو متحد ہو کر لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے ۔‘‘
  انہوں نے مزید کہا:’’ وزیرداخلہ جب ایوان میں بیٹھتے ہیں تو ایک ذات کے لوگوں کو بھول جاتے ہیں اور اس  طبقہ نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر آزادی حاصل کی ہے ۔یہ ملک دھرم سے نہیں بلکہ کرم سے چلے گا ۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ انگریزوں کے فارمولے کے مطابق ہندو مسلم کو آپس میں لڑائے چنانچہ سیاہ قانون میں ایسا ہی کیا گیا ہے جبکہ ان کا  فرض منصبی کا  یہ ہے کہ وہ محض ایک طبقے کی نہیں بلکہ سوا سو کروڑ ہندوستانیوں کی نمائندگی کریں ۔تقریب حلف برداری میں غیر جانب داری   سےکام کرنے کا حلف لیتے ہیں مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ حکومت ایک مخصوص طبقہ کا نام لینا تک گوارا نہیں کرتی۔‘‘ ان کے بقول:’’ آسام کی این آر سی سے ملک کو کیا ملا؟ اس میں ۱۶۰۰؍ کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ اس خطیر رقم سے۳؍ ہزار اسکول کھولے جا سکتے تھے ۔ اس سے ملک کی ترقی ہوتی اور بچوں کی شرح خواندگی میں اضافہ ہوتا مگرعوام کی گاڑھی کمائی کا پیسہ (ٹیکس) یونہی ضائع کر دیا گیا ۔ میرا حکوت سے مطالبہ ہے کہ اس سیاہ قانون کو ختم کیا جائے  ۔‘‘
  امبیڈکر مہا سبھا کے بھنور سنگھ بھی دھرنا گاہ پہنچے اور انہوں نے خطاب کے دوران سیاہ قانون کی حقیت  بیان کرتے  ہوئے کہا:’’ امبیڈکر کے آئین سے چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔خاتون مظاہرین خوفزدہ نہ ہوں  ۔ تانا شاہ کا سورج غروب ہونا یقینی ہے ۔ آج بے روزگاری ،مہنگائی ،تعلیم اور کسانوں کے مسائل پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ ملک کے۲؍ بڑے لیڈر کالے قانون کے ذریعہ عوام میں خوف اور عدم اطمینان کا ماحول  پیدا کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK