الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کشی نگرکے مدارس کی تحقیقات سے متعلق دائر رِٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا جوابی حلف نامہ۴؍ ہفتوں کے اندر داخل کرے۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 12:43 PM IST | Hmidullah Siddiqui | Lucknow
الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کشی نگرکے مدارس کی تحقیقات سے متعلق دائر رِٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا جوابی حلف نامہ۴؍ ہفتوں کے اندر داخل کرے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کشی نگرکے مدارس کی تحقیقات سے متعلق دائر رِٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا جوابی حلف نامہ۴؍ ہفتوں کے اندر داخل کرے۔ عدالت نے اس دوران حکومت کے جاری کردہ احکامات پر روک لگا دی ہے اور معاملہ کی سماعت کیلئے اگلی تاریخ ۷؍جولائی ۲۰۲۶ء مقرر کی ہے۔ جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی بنچ کے سامنے ہو نے والی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وی کے سنگھ اور ایم اے اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی مدارس کے خلاف کئی بار تحقیقات کی جا چکی ہیںاور ان تحقیقات میں مدارس کو’اتر پردیش نان گورنمنٹ عربک اینڈ فارسی مدرسہ ریکگنیشن، ایڈمنسٹریشن اینڈ سروسز ریگولیشن ۲۰۱۶ء کے مطابق درست پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود۷؍ جنوری ۲۰۲۶ء، ۲۰؍ جنوری ۲۰۲۶ء اور ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو جاری کئے گئے سرکاری احکامات کے ذریعے مدارس کی جانچ کےلئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میگھالیہ: ویسٹ گارو ہلز میں تشدد، ۲؍افراد ہلاک، مسجد میں توڑ پھوڑ، کرفیو نافذ
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ بار بار نئی تحقیقات کا حکم دینا اختیارات کا غلط استعمال ہے اور اس سے مدارس کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ۲۰۱۶ء کے ضابطے کے مطابق کسی مدرسے کی منظوری ختم کرنے کا اختیار صرف یوپی مدرسہ بورڈ کے پاس ہے۔دوسری جانب، عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ یہ واضح کرے کہ سابقہ تحقیقات کے بعد حکومت کو ایسا کون سا نیا مواد یا حقائق ملے ہیں جن کی بنیاد پر دوبارہ جانچ کے احکامات دئے گئے۔عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت ۷؍ جولائی ۲۰۲۶ء مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران حکومت اپنا جواب داخل کرے، جس کے بعد درخواست گزاروں کودو ہفتوںکے اندر ریجوائنڈر افیڈیویٹ داخل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔مزید یہ کہ عدالت نے ۷؍جنوری، ۲۰؍ جنوری اور ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء کے جاری کردہ احکامات کے نفاذ پر فی الحال روک لگا دی ہے۔واضح رہے کہ کشی نگرضلع میں ۲۵؍امدادیافتہ و تقریباً ۳۰۰؍منظورشدہ مدارس ہیں ،جنکی جانچ کے احکامات دئے گئے تھے۔اس بارے میں عرضی گزار کے وکیل ایم اے اوصاف نے روزنامہ ’ انقلاب ‘ کوبتایا کہ اترپردیش پسماندہ کمیشن کے رکن پھول بدن کشواہا کی شکایت پر وزیراعلیٰ کے چیف سکریٹری نے مدرسوںکی اراضی ، عمارت، اساتذہ کی قابلیت، غیر قانونی فنڈنگ وغیرہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل میںیوپی محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر نے مدرسوں کی جانچ کیلئے تین رکنی کمیٹی سے جانچ کرانے کاحکم نامہ جاری کیاتھا۔ان احکامات کے خلاف ضلع کشی نگرمیں واقع مدارس کے منیجروں نے ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔