نوئیڈا کے سیکٹر ۱۵ اے (15A) کے رہائشیوں نے سنیچر کو ’ورنداون پارک‘ میں جمع ہو کر اتر پردیش حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی جس کے تحت مندر کے لئے تقریباً ۳۰۰ مربع میٹر زمین مختص کی جا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi
نوئیڈا کے سیکٹر ۱۵ اے (15A) کے رہائشیوں نے سنیچر کو ’ورنداون پارک‘ میں جمع ہو کر اتر پردیش حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی جس کے تحت مندر کے لئے تقریباً ۳۰۰ مربع میٹر زمین مختص کی جا سکتی ہے۔
نوئیڈا کے اعلیٰ رہائشی علاقے میں عوامی پارک کا ایک حصہ مندر کے لئے مختص کئے جانے کی تجویز کے خلاف مقامی افراد کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ نوئیڈا کے سیکٹر ۱۵ اے (15A) کے رہائشیوں نے سنیچر کو ’ورنداون پارک‘ میں جمع ہو کر شہری انتظامیہ کے اس اقدام کی مخالفت کی جس کے تحت مندر کے لئے تقریباً ۳۰۰ مربع میٹر زمین مختص کی جا سکتی ہے۔ اس پلاٹ کی مالیت کا تخمینہ تقریباً ۸ء۲ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
تقریباً ۶۰ رہائشیوں نے نوئیڈا اتھارٹی کے نوٹیفیکیشن کی منسوخی کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت میں دائر کردہ پٹیشن میں رہائشیوں نے مشاورت کی کمی، ماحولیاتی خطرات اور قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے مداخلت کرکے حکام کو پارک کی حیثیت تبدیل کرنے سے روکنے، شہری منصوبہ بندی کے قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے اور عوامی سبزہ زار پر کمیونٹی کے حق کی حفاظت کرنے کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے سب سے بڑے بیف ایکسپورٹر کا بی جے پی کو بڑا عطیہ، بحث تیز
حکومت کی تجویز کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ پارک میں کسی بھی تعمیرات سے درختوں کو نقصان پہنچے گا، ٹریفک میں اضافہ ہوگا اور پرسکون رہائشی شناخت کے لئے مشہور اس علاقے کے روزمرہ کے معمولات میں خلل پڑے گا۔ کئی رہائشیوں نے زور دیا کہ ان کا احتجاج مذہب کے خلاف نہیں بلکہ اس پروجیکٹ کے مقام کے خلاف ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اطراف میں پہلے سے کئی عبادت گاہیں موجود ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ مذہب اور ذاتی عقیدہ کو نجی معاملہ رہنا چاہئے۔
اس مسئلے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کرلیا ہے۔ کئی رہائشیوں نے الزام لگایا کہ مقامی سیاسی شخصیات اس پروجیکٹ پر اصرار کر رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا الاٹمنٹ کے عمل میں کمیونٹی کے ساتھ مناسب مشاورت کی گئی تھی۔ مندر کی تجویز اور زمین کے الاٹمنٹ میں شامل ایک ٹرسٹ کے درمیان روابط کے دعوے بھی کئے گئے، تاہم اس پر اب تک کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھئے: بہار: تعلیمی اداروں کے قریب کھلے گوشت کی فروخت پر پابندی کا اعلان
رہائشیوں کے خدشات صرف ماحولیاتی اثرات تک محدود نہیں ہیں۔ کچھ رہائشیوں کو ڈر ہے کہ عوامی پارکس کے اندر مذہبی تعمیرات کی اجازت دینے سے ایک مثال قائم ہو سکتی ہے، جس سے دیگر مذہبی ڈھانچوں کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر محلے کے سماجی تانے بانے میں تبدیلی آسکتی ہے۔