کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے درگاہ کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا اور اس واقعے کی آزادانہ انکوائری اور اس کی اصل جگہ پر درگاہ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 8:04 PM IST | Hyderabad
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے درگاہ کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا اور اس واقعے کی آزادانہ انکوائری اور اس کی اصل جگہ پر درگاہ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
تلنگانہ کے ضلع راجنہ سرسلہ کے علاقے ویمولہ واڑہ میں واقع صدیوں پرانی ’درگاہ حضرت تاج الدین خواجہ باغ سوار‘ کے مبینہ انہدام کے بعد تلنگانہ حکومت شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ اس انہدامی کارروائی کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قریب کے ’شری راجہ راجیشور مندر‘ کی توسیع میں سہولت کے لئے انجام دی گئی ہے۔ اس اقدام پر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ، سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔
تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی جانب سے ضلع کلکٹر کو بھیجے گئے خط کے مطابق، یہ درگاہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۰ء کے آندھرا پردیش گزٹ میں درج ہے اور باضابطہ نوٹیفائیڈ وقف جائیداد کی حیثیت رکھتی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا کہ یہ درگاہ تقریباً ۸۰۰؍ سال پرانی سمجھی جاتی ہے۔ یہ تاریخی طور پر ایسی جگہ رہی ہے جہاں مختلف مذاہب کے عقیدت مند امن و امان کے ساتھ عبادت کرتے رہے ہیں۔
وقف بورڈ نے کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال کیا
تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے بتایا کہ انہیں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ درگاہ کی ترقیاتی کمیٹی اور متولی نے مذہبی مقام کی منتقلی کی تجویز دیتے ہوئے رضامندی نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، بورڈ نے وضاحت کی کہ نہ کمیٹی اور نہ ہی متولی کو ’این او سی‘ (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) جاری کرنے یا منتقلی کی اجازت دینے کا کوئی اختیار حاصل ہے۔ بورڈ کے مطابق، وقف جائیداد میں کسی بھی تبدیلی کی منظوری دینے کا اختیار صرف وقف بورڈ کے پاس ہے۔
بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متولی نے بعد میں اختیار کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنا خط واپس لے لیا تھا۔ بورڈ نے حکام پر زور دیا کہ وہ درگاہ کی موجودہ حالت میں مداخلت نہ کریں۔ اس نے خبردار کیا کہ منتقلی کی کوششیں علاقے میں امن و امان کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم خاتون کو رہائش سے انکار اور دلت باورچی پر اعتراض: سپریم کورٹ جج کی تشویش
انہدامی کارروائی کے بعد سیاسی ردِعمل
حیدرآباد کی سیاسی جماعت ’مجلس بچاؤ تحریک‘ (ایم بی ٹی) نے اس انہدامی کارروائی کو مذہبی آزادی سے متعلق آئینی تحفظات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تلنگانہ کے ریاستی اقلیتی کمیشن سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ شکایت میں وقف بورڈ کی سابقہ کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ واضح منظوری کے بغیر درگاہ کو منتقل نہیں کیا جاسکتا۔
ایم بی ٹی کے لیڈران نے دعویٰ کیا کہ مندر سے قربت کی وجہ سے درگاہ کو ہٹانے کے لئے طویل عرصے سے دباؤ کا سامنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایم بی ٹی نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور ضروری کارروائی کو یقینی بنائیں۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی درگاہ کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا اور اس واقعے کی آزادانہ انکوائری اور اس کی اصل جگہ پر درگاہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ درگاہ کی منتقلی میں مقامی سیاسی مداخلت شامل ہے۔
ریاستی حکام نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی عوامی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔