• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۵؍ سالہ محمد عظیم اسلم اور۶۵؍سالہ حاجی محمد یوسف ۴؍ سال میں حافظ قرآن بن گئے

Updated: September 27, 2026, 10:39 AM IST | Ismail Shaad | Dhule

دھولیہ کے فردوس نگر علاقے کی جامع مسجد میں مکاتب علماء کمیٹی کے زیر نگرانی چلنے والے مدرسہ تعلیم بالغاں سے دونوں حضرات نے یہ سعادت حاصل کی، دونو ں حفاظ کے اعزاز میں آج تقریب۔

First photo: 35-year-old Hafiz Muhammad Azeem Aslam Ansari at his shop; second photo: 65-year-old Hafiz Haji Muhammad Yusuf. Photo: INN.
پہلی تصویر:۳۵؍ سا لہ حافظ محمد عظیم اسلم انصاری اپنی دکان پر، دوسری تصویر:۶۵؍ سالہ حافظ حاجی محمد یوسف۔ تصویر: آئی این این

حفظِ قرآن کی سعادت ہر عمر میں اللہ تعالی کا عظیم الشان فضل اور تحفہ ہے، لیکن جب عمر کی مختلف دہائیوں میں انسان اس منزل کو حاصل کرتا ہے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ارادے مضبوط ہوں اور شوقِ الٰہی سچا ہو تو عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ دھولیہ شہر کے محمد عظیم اسلم انصاری (۳۵)، حاجی محمد یوسف انصاری (۶۵) ان دونوں صاحبان کی حفظ قرآن کی تکمیل کی ایمان افروز داستان قابل رشک اور دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے۔ دھولیہ شہر کے فردوس نگر علاقے کی جامع مسجد میں مکاتب علماء کمیٹی کے زیر اہتمام بڑی عمر کے لوگوں کے لیے مدرسہ تعلیم بالغاں چلایاجارہا ہے۔ محمد عظیم انصاری اور حاجی محمد یوسف انصاری ان دونوں نے اسی مدرسہ سے تکمیل حفظ کی سعادت حاصل کی ہے۔ عظیم انصاری کا قرآن کریم حفظ کرنے کا کارنامہ نہایت ہی حیران کن ہے۔ ۳۵؍ سال کی عمر میں حفظ مکمل کرنے والے حافظ قرآن کی زندگی بہت ہی مصروف ترین ہے۔ حافظ عظیم انصاری نے بتایا کہ انھیں بچپن ہی سے حافظ بننے کا شوق تھا۔ مدرسہ سراج العلوم مولوی گنج میں قرآن کریم کا ناظرہ کیا۔ گھر کی ذمہ داریاں بڑھ جانے سے ان کا حفظ کا سلسلہ رک گیا۔ جب بھی دینی مدارس کے حفاظ کے اعزاز میں منعقدہ دستار بندی کی تقریبات میں شریک ہوتے تو ان کے حافظ بننے کا جذبہ ٹھاٹیں مارتا تھا۔ انھیں معلوم ہوا کہ فردوس نگر مسجد میں شہر کے علمائے کرام نے تجوید، ناظرہ اور حفظ کے خواہش مند بالغوں کیلئے مدرسہ شروع کیا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں انہوں نے اس مدرسہ میں داخلہ لیا۔ معلوم ہوکہ مدرسہ میں داخلے کے وقت عظیم انصاری کی عمر۳۱؍ سال تھی۔ اس عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کا معمول پوچھے جانے پر بتایا کہ استاد جو سبق دیتے وہ دن بھر موبائل سن کر یاد کرتے پھر دوسرے دن استاد کو سبق سناتے۔ عظیم انصاری کے تین بچے ہیں اور ان کی مولوی گنج علاقے میں دودھ ڈیری، مٹھائی کی دکان ہے۔ دکان کی تمام تر ذمہ داریاں انہی پر ہے۔ دکان میں چلتے پھرتے موبائل میں قرآن کریم سنتے پھر رات میں ایک بجے دکان بند کرنے کے بعد قرآن کریم دیکھ کر غلطیوں کی اصلاح کرتے، دوسرے دن استاد کو سبق سناتے۔ عظیم انصاری نے کہا کہ۶۵؍سال کے انصاری محمد یوسف کے حفظ کا جذبہ دیکھ کر انھیں مزید تقویت ملی۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام فلائی اوورخستہ حالی کا شکار

اسی مدرسے سے قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے انصاری محمد یوسف کا عظیم کارنامہ بھی ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ عمر گزرجانے کے بعد حفظ کرنا ممکن نہیں۔ محمد یوسف انصاری اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے منیجر کے عہدے پر تھے۔ سبکدوشی کے بعد انھوں نے سوچا کہ بقیہ زندگی اپنے رب کے کلام کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے کیلئے وقف کی جائے۔ سبکدوش ہونے کے بعد انھوں نے قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا۔ دو سے تین پارے حفظ بھی کرلیے تھے لیکن کورونا وبا کے دور میں اور گھر کی ذمہ داریاں بڑھ جانے کے بعد حفظ کا سلسلہ رک گیا۔ انھیں بھی معلوم ہوا کہ فردوس نگر کی جامع مسجد میں علمائے مکاتب کمیٹی نے بالغوں کے لیے قرآن کریم سیکھنے کے لیے مدرسہ شروع کیا ہے۔ یہ سن کر ان کی خوشی دوبالہ ہوگئی ان کے حفظ کا خواب پورا ہونے کا اللّہ نے موقع عطا کردیا۔ وہ روزانہ بلا ناغہ مدرسے میں قرآن حفظ کی کلاس میں جاکر استاد سے سبق لیتے اور دوسرے دن یاد کیا ہوا سبق سناتے۔ محمد یوسف انصاری نے بتایا کہ وہ ہر نماز کے بعد قرآن کریم یاد کرتے۔ دن بھر میں چار سے پانچ گھنٹے حفظ کرتے۔ معلوم ہوکہ حافظ محمد یوسف کو تین بیٹیاں، ایک بیٹا ہے۔ چاروں بچوں کی شادیاں ہوگئی ہے۔ 
اس بابت مکاتب علما کمیٹی کے رکن مولانا عبدالعلیم نے بتایا کہ مذکورہ کمیٹی کے زیر اہتمام فردوس نگر جامعہ مسجد، گھڑیال مسجد، بندہ نواز مسجد، علی مصطفیٰ مسجد میں بالغوں کے لیے دینی مدرسےچل رہے ہیں۔ انہوں نے ان مدرسوں میں آنے والے بڑی عمرکے افراد جن میں خواتین بھی شامل ہیں، تفصیلات بتائیں اورمذکورہ دونوں حفاظ کے بارے میں بتایاکہ مدرسے کے طلبا کو جتنا وقت حفظ کرنے میں لگتا ہے، ان حضرات نے بھی اتنا ہی وقت لیا۔ فردوس نگر جامع مسجد میں آج بعد نماز عشا دونوں حفا ظ کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیاجائےگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK