• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۳۰ءتک لاجسٹک شعبے میں ۴۷؍لاکھ ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان

Updated: February 08, 2026, 10:45 AM IST | Mumbai

فریٹ، ویئرہاؤسنگ، ٹرانسپورٹیشن اور سپلائی چین سرگرمیوں میں اضافے کے باعث اگلے کچھ سال میں اس شعبے کو۴۷؍ لاکھ اضافی ملازمین کی ضرورت ہوگی۔

Participants of the conference on logistics can be seen. Photo: INN
لاجسٹک پر منعقدہ کانفرنس کے شرکاء دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کے لاجسٹک شعبے میں ۲۰۲۵ء کے دوران مضبوط تقرری سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں سال کی دوسری ششماہی میں ۱۰ء۸؍ فیصد خالص روزگار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعت کی توسیع کے ساتھ بڑی تعداد میں اسامیاں پُر کی جا رہی ہیں۔ فریٹ، ویئرہاؤسنگ، ٹرانسپورٹیشن اور سپلائی چین سرگرمیوں میں اضافہ کے باعث ۲۰۳۰ء تک اس شعبے کو۴۷؍ لاکھ اضافی ملازمین کی ضرورت ہوگی۔ 
لاجسٹک سیکٹر اسکل کونسل کے سی ای او، روی کانت یمرتھی نے لاجی میٹ انڈیا۲۰۲۶ء میں صنعت کے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’لاجسٹک سیکٹر اسکل کونسل نے لاجی میٹ انڈیا کے ساتھ ٹیلنٹ گیپ کو کم کرنے اور ہندوستان کو لاجسٹک شعبے میں دنیا کی صلاحیت کی راجدھانی بنانے کیلئے شراکت داری کی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ریپو شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی:رِیزرو بینک

دنیا کے سب سے بڑے لاجسٹک، فریٹ اور ٹرانسپورٹیشن شو لاجی میٹ انڈیا ۲۰۲۶ء کا تیسرا ایڈیشن ممبئی کے بمبئی ایگزیبیشن سینٹر میں شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہوا۔ اس سال یہ ایونٹ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جس میں ۱۰؍ ممالک سے ۳۵۰؍ سے زائد عالمی برانڈز شرکت کر رہے ہیں۔ 
لینڈیس میسے اشٹٹ گارٹ کمپنی کے نائب صدر برن ہارڈ مولر نے اس موقع پر کہاکہ ’’لاجی میٹ انڈیا پالیسی، ٹیکنالوجی اور صنعت کے سنگم پر ایک اسٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر ابھر چکا ہے، جو ہندوستان کے عالمی سپلائی چین قیادت کے سفرمیں اہم سنگ میل ہے۔ اس سال ۷؍ ممالک کی مضبوط بین الاقوامی شراکت لاجسٹک جدت اور تعاون کے عالمی مرکز کے طور پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ‘‘ لاجسٹکس شعبے میں خواتین کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے، وزارت شپنگ میں ایڈیشنل سیکریٹری شیام جگن ناتھن نے کہا کہ ’’ساگر پے سمان کے ذریعے ہم ہندوستان کے لاجسٹک شعبے میں خواتین کی تعداد بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے ملک کی آدھی آبادی کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK