• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ یہ میرا خواب ہے کہ بڑے پردے پر میں اپنے فن کا مظاہرہ کروں ‘‘

Updated: February 08, 2026, 11:44 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم اور ٹی وی اداکاردانش اخترسیفی کا کہنا ہے کہ مجھے شاہ رخ خان کی فلم کنگ کی پیشکش آئی تھی لیکن تاریخ نہیں تھی، اسلئے میں نے انکار کردیا تھا، فی الحال میں اچھے رول کیلئے کوشاں ہوں۔

Film and TV actor Danish Akhtar Saifi. Photo: INN
فلم اور ٹی وی اداکاردانش اخترسیفی۔ تصویر: آئی این این

شو بز انڈسٹری میں ایسے کئی فنکار ہیں جنہوں نے شروعات کسی اورشعبے میں کی لیکن قسمت نے انہیں کسی اور پیشے میں پہنچا دیا۔ دانش اختر کا شمار ایسے ہی فنکاروں میں کیا جاتاہے۔ انہوں نے پہلوانی میں نام روشن کرنا چاہا تھا لیکن قسمت نے انہیں شو بز انڈسٹری میں داخلہ دلوا دیا اور آج وہ ٹی وی انڈسٹری کے دیومالائی اور تاریخی شوز کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ بہار کے سیوان سے تعلق رکھنے والے دانش نے اداکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے بلکہ شوز میں کام کرتے ہوئے اداکاری کا ہنر سیکھا ہے۔ انہوں نے ٹی وی کے ساتھ ہی کنٹر اور ہندی کے چند فلموں میں بھی کام کیا ہے لیکن وہ رول مختصر تھے۔ اس وقت وہ ۲؍ ٹی وی شوز میں کام کررہے ہیں اور ان دونوں ہی کا پس منظر تاریخی ہے۔ ایک شو میں انہوں نے ہنومان کا کردار نبھایا ہے جبکہ دوسرے میں نندی کا رول نبھا رہے ہیں۔ دانش اختر کا کسرتی بدن ہے، اسلئے انہیں اکثر اسی طرح کے رول دیئے جاتے ہیں۔ انقلاب نے دانش اختر سےگفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جا رہا ہے: 
آپ کے پہلوان بننے کا قصہ کیا ہے؟
ج: بچپن میں ایک شوق ہوتاہے کہ مجھے یہ بننا ہے۔ ہم بچپن میں ڈبلیو ڈبلیو ای دیکھا کرتے تھے۔ وہیں سے مجھے پہلوان بننے کا شوق پیدا ہوا۔ لیکن ایک سچائی یہ بھی ہے کہ میں پہلوان نہیں بننا چاہتا تھا مگر حالات کی وجہ سے بن گیا۔ میں سیوان سے تعلق رکھتا ہوں جہاں سے تعلق رکھنے والے بہت سارے افراد پولیس اور فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ یہ پیشے غلط نہیں ہیں لیکن میری خواہش ان میں کام کرنےکی نہیں تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میں کچھ بڑا کروں اور ٹی وی یا بڑے پردے پرآؤں تاکہ اپنے شہر اور خاندان کا نام روشن کر سکوں۔ اس کیلئے میں نے جم جانا شروع کیا۔ اس کے بعد میری شخصیت کو دیکھنے اور اور میرے کسرتی جسم کی وجہ سے چند افراد نے مشورہ دیا کہ مجھے باکسنگ یا کشتی میں کوشش کرنی چاہئے۔ اس وقت اتنی معلومات نہیں کہ مکے بازی اور کشتی کہاں سکھائی جاتی ہے۔ ایک اخبار میں مشہور ریسلر’کھلی‘ کی خبر پڑھی تو ان کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ پتہ چلا کہ انہوں نے جالندھر کے ایک ادارے سے کشتی سیکھی تھی۔ میں نے اس ادارے کا پتہ تلاش کیا اور وہاں پہنچ گیا اور پھر ’کھلی‘ سر کی زیرنگرانی میں نے کشتی سیکھی۔ اس دوران امریکہ سے ایک وفد آیا تھا جوکشتی کے مقابلے کیلئے نئے لڑکوں کا انتخاب کررہا تھا۔ کھلی سر کے کہنے پر میں نے بھی ٹرائل دیالیکن اس مقابلے کیلئے منتخب نہیں ہوسکا۔ میرے ساتھ کچھ لڑکے اور بھی تھے۔ آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کس وجہ سے ہم۵۔ ۴؍؍ لڑکوں کو انکار کیاگیا تھا۔ بہرحال وہ انکار کیا جانا ہمارے لئے اچھا ہی ہوا۔ میں نے کبھی پہلوانی نہیں کی ہے البتہ اس کے لئے کوشش ضرور کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: جگجیت سنگھ نے فلموں میں غزل گائیکی کو منفرد مقام دیا

اداکاری کے پیشے میں داخلہ کیسے ہوا ؟
ج:ایک بات واضح ہوگئی تھی کہ میرا امریکہ کا ویزا نہیں لگے گا، اسلئے میں نے امریکہ جاکر کشتی کرنے کا فیصلہ ترک کر دیا تھا۔ اس وقت مالی حالت بھی بہتر نہیں اور میں نے کچھ افراد سے چھوٹے چھوٹے قرض بھی لے رکھے تھے۔ کشتی کے دوران اداکار اور پہلوان سنگرام سنگھ سے میرے تعلقات بہتر ہوگئے تھے۔ میں انہیں بڑا بھائی کہتاہوں۔ میں نے انہیں کال کیا کہ میں ممبئی آرہا ہوں آپ مجھے کشتی کے کچھ گُر سکھادیں۔ اس وقت بھی یہ طے نہیں تھا کہ میں شو بز انڈسٹری میں داخل ہوں گا۔ میں چاہتا تھا کہ سنگرام بھائی سے کچھ سیکھ کر کشتی ہی میں اپنا کام کروں۔ ممبئی پہنچا اور سنگرام سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ ٹی وی شوز ہی میں سے ایک کاسٹنگ ڈائریکٹر میرا دوست نکلا۔ اس نے مجھے مشورہ دیا کہ میں لحیم شحیم ہوں، اس لئے میں تاریخی پس منظر والے شوز میں جاکر آڈیشن دوں۔ میں نے ٹرائیلوجی پروڈکشن ہاؤس میں آڈیشن دیا۔ یہ پروڈکشن ہاؤس ٹی وی شو ’’دیوؤں کے دیو مہادیو‘‘ نامی ایک شو بنارہا تھا۔ پروڈکشن ہاؤس نے کہاکہ میں نے لائن تو اچھی بول دی ہے لیکن اداکاری میں پختگی ضروری ہے۔ میں نے کہاکہ میرے دوست کے کہنے پر میں یہاں آگیا تھا۔ ایک ماہ کے بعد پروڈکشن ہاؤس سے فون آیااور انہوں نے مجھے ہنومان کا رول دے دیا۔ پروڈکشن ہاؤس نے ’این ایس ڈی‘ کے ایک ٹیچر راجیش تیواری کے پاس ایک ماہ کا ایکٹنگ ورک شاپ کروایا۔ میں نے اس سے قبل کبھی شوٹنگ تک نہیں دیکھی تھی۔ مجھے پروڈیوسر نکھل سنہا نے رامو جی فلم سٹی بھیج دیا۔ وہاں میں نے شوٹنگ کی تو ہدایتکار بھی خوش ہوگئے۔ پھر تو راستہ کھل گیا۔ رامو جی میں مجھے کنٹرزبان کی فلم ’کروکشیتر ‘ میں بھیم سین کا رول مل گیا۔ اس طرح ایک ہی ساتھ میرا ٹی وی اور فلم کا کریئر شروع ہوا۔ 
پہلوانی سے اداکاری کی شروعات کرنا کتنا مشکل تھا؟
ج:میرا جدوجہد کا دور کشتی ہی میں ختم ہوگیا تھا۔ دراصل میں اس جدوجہدکو محنت ہی کہتا ہوں اور یہ سبھی لوگ کرتے ہیں کیونکہ اگر کسی کو ترقی کرنا ہے تو اسے محنت کرنا ضروری ہے۔ میں نے بھی خوب محنت کی ہے۔ کشتی میں بھی ہمیں کبھی کبھی ایکٹنگ کرنی ہوتی تھی اور یہ تجربہ شو بز انڈسٹری میں کام کیا۔ حالانکہ یہ کبھی کبھی میرے لئے منفی تاثر بھی پیدا کرتا ہے۔ بہت سے پروڈکشن ہاؤس میری باڈی اور جسامت دیکھ کر مجھے راکشس اور اس طرح کے رول آفر کرتے ہیں لیکن اب میں اس طرح کے رول نبھانے سے گریز کررہا ہوں اور اپنی اداکاری پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔ 
تاریخی پس منظر کے شوززیادہ کرنے کی کیا وجہ ہے ؟
ج:میری باڈی اور جسامت کی وجہ سے تاریخی پس منظر کے شوز ہی مجھے آفر کئے جاتے ہیں۔ میرے لئے یہ اچھی بات ہے۔ ہدایتکاروں کے مطابق میری ایک اچھی خوبی یہ بھی ہے کہ میری باڈی ہونے کے باوجود میں اچھے مکالمے ادا کرتا ہوں اور میری اداکاری بھی اچھی ہے۔ میں جس پروڈکشن ہاؤس کیلئے کام کرتا ہوں وہ پروڈکشن ہاؤس مجھے دوبارہ بلاتاہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جن اداکاروں کی باڈی ہوتی ہے وہ زیادہ نہیں بول سکتے لیکن خدا کا شکر ہے کہ میں ڈائیلاگ آسانی سے بول لیتاہوں۔ 
کیاآپ ہندی فلموں میں کام کرنے کیلئے کوشش کررہے ہیں ؟
ج:میں اس وقت تجربہ کار اداکارآشوتوش رانا کے ساتھ ’ہمارے رام‘ تھیٹر شوز میں مصروف ہوں۔ اس شو میں میں ہنومان کا رول نبھا رہاہوں اور یہ اتنا مشہور ہوگیا ہے کہ کم وقت میں زیادہ پلے کرنے والا شو بن گیا ہے۔ اس دوران مجھے فلموں کی بھی پیشکش آتی ہے لیکن تاریخ نہیں ہونے کی وجہ سے میں انہیں قبول نہیں کرپا رہا ہوں۔ میں نے اداکار سونو سود کے ساتھ فلم ’فتح ‘کی تھی، اس میں چھوٹا رول تھا لیکن اچھا تھا۔ میں نے ’وکرم ویدا‘میں مراٹھی گینگ کے لیڈر کا رول نبھایا، مجھے رتیک روشن اور سیف علی خان کے ساتھ شوٹنگ کرنے کا موقع ملا۔ مجھے شاہ رخ خان کی فلم ’کنگ ‘کیلئے بھی پیشکش ہوئی تھی لیکن میرے پاس تاریخ نہیں تھی اسلئے میں نے منع کردیا۔ میں خود چاہتا ہوں کہ بڑے پردے پر اچھے رول کروں لیکن تھیٹر شوز سے میرے ممبئی کا خرچ چلتا ہے۔ جب تک میں ایک اچھا بیک اپ تیار نہیں کرلوں کہیں نہیں جاسکتا۔ 
آپ اتنی اچھی اداکاری کیسے کرلیتے ہیں ؟
ج:میں جن افراد کے ساتھ کام کررہا ہوں وہ سب منجھے ہوئے ہیں۔ آشوتوش رانا کے ساتھ گزشتہ ۲؍ سال سے کام کررہاہوں۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے میں ان سے اداکاری کے بہت سارے گُر سیکھ گیاہوں۔ تھیٹر آپ کو اداکاری کے بارے میں اتنا کچھ سکھا دیتاہے کہ آپ کو کسی اور ادارے کی جانب سے دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ میں ان ہی شوز کے ذریعہ اپنی اداکاری کو نکھار رہا ہوں۔ 
کیا آپ اب بھی پہلوانی کررہے ہیں ؟
ج:میں نے پہلوانی چھوڑ دی ہے، اسلئے میں چاہتا ہوں کہ اب کوئی بھی اسے یاد نہ رکھے۔ پہلوانی چھوڑ کر بھی ۱۰؍ سال ہوگئے ہیں اور میری کوشش ہے کہ کبھی اس طرف نہیں جاؤں، لیکن گوگل پر اس کا ذکر ہونےکی وجہ سے کئی افراد مجھ سے یہی سوال کرتے ہیں۔ میں اب اداکاری کی سمت میں ہی کام کرنا چاہتا ہوں۔ 
آپ مسلم ہیں اور ہنومان کا کردار نبھاتے ہیں تو کوئی تنقید نہیں کرتا؟
ج:آج تک کسی نے بھی میرے کام اور نام کے تعلق سے تنقید نہیں کی ہے۔ میرے ہندو شناسا نے کبھی نہیں کہا کہ میں گوشت خور ہوں اورہنومان کا کردار نبھا رہاہوں۔ اسی طرح میرے مسلم دوستوں نے بھی کبھی نہیں کہا کہ میں مسلمان ہوکر ہنومان کا رول کیوں نبھا رہا ہوں۔ سب جانتے ہیں کہ یہ صرف اداکاری ہے۔ میں اپنے کام پر توجہ دیتا ہوں اور اسے پوری دیانتداری سے انجام دیتاہوں۔ 
انڈسٹری میں آپ کا تجربہ کیسا رہا ہے؟
ج:انڈسٹری میں بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ شو بزانڈسٹری میں گزشتہ ۳؍ سال سے میرے کام کو پسند کیا جارہا ہے اور یہ خدا کی ہی مہربانی ہے کہ میں اچھے رول نبھا رہا ہوں۔ ورنہ شروعات کے ۷؍  سال مجھے کافی محنت کرنی پڑی تھی۔ شروعات میں شو بز انڈسٹری آپ کو بہت رُلاتی ہے اور کبھی کبھار تو ایسا لگتاہے کہ میں غلط میدان میں آگیا ہوں لیکن اگر آپ محنت کریں اور اپنے کام کو توجہ اور لگن سے انجام دیں تو آپ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ میں نے بھی بہت صبر سے کام لیا اور خدا سے دعا کرتا رہا اور وہ دعا قبول ہوگئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK