گوونڈی میں مکان گرنے سے۴؍افراد فوت،۷؍ زخمی

Updated: July 24, 2021, 9:45 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

حادثہ اس وقت پیش آیا جب مکین گہری نیند میں تھے۔ راحت اور بچاؤ کے کام میں مقامی نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کنٹریکٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

four people were killed when a house collapsed in Govandi on Saturday morning.Picture:Inquilab
گوونڈی میں علی الصباح مکان گرنے سے ۴؍افراد ہلاک ہوگئے

ہاں شیواجی نگر پلاٹ نمبر ۳؍نزد بامبے سٹی اسپتال میں ۳؍ منزلہ مکان جمعہ کی علی الصباح۴؍بجکر ۵۸؍منٹ پر اچانک گر جانے سے ۴؍ مکین فوت ہوگئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اہل خانہ گہری نیند میں تھے۔ مکان گرنے کے ساتھ زوردار آواز آئی اور ہنگامہ مچ گیا۔ محلے کے لوگ گھروں سے نکلے اور راحت اور بچاؤ شروع کیا ۔ کچھ ہی دیر بعد فائیر بریگیڈ کا عملہ جائے حادثے پر پہنچا اور مزید تیزی سے راحت اور بچاؤ کا کام شروع ہوا ۔ خاص طور سے ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے اور انہیں اسپتال پہنچانے کے لئے مقامی نوجوانوں نے بھی کافی مدد کی ۔
  اس حادثے میں شبیر شیخ( ۸۰) ، نیہا پرویز شیخ (۳۴)، شمشاد شیخ (۴۵)  اور فرحین شیخ (۲۲) کی موت واقع ہوئی ۔زخمی ہونے والے محمد فیضل  قریشی، نمرہ قریشی، شاہین قریشی، پرویز شیخ، آمنہ بی شیخ، امول ڈھاڈے اور  سمول سنگھ  کا سائن اور راجا واڑی اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔  ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔اس حادثے میں کل ۱۱؍ لوگوں کو چوٹیں آئی تھیں جن میں سے ۴؍کا انتقال ہوگیا  اور بقیہ ۷؍ کا علاج جاری ہے۔ یہ حادثہ اتنا بھیانک تھا کہ مکان تاش کے پتے کی طرح بکھر گیا ۔اس حادثے میں فوت ہونے والوں کو یہ اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ یہ ان کی آخری رات ہوگی ۔یاد رہے کہ ابھی محض ۴؍ دن قبل  چمبورر واشی ناکہ اور وکھرولی میں اسی طرح کے حادثات کی وجہ سے ۳۲؍قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں اور آج یہ دردناک حادثہ پیش آیا۔
  ہم نے سمجھا زلزلہ آگیا
 پڑوس میں رہنے والے حج کمیٹی آف انڈیا میں ڈسپیچ ڈپارٹمنٹ  میں کام کرنے والے جاوید الیاس خان نے نمائندہ ٔانقلاب کو بتایا کہ زوردار آواز سے مکان گرنے سے ایسا محسوس ہوا گویا زلزلہ آگیا ہو چنانچہ ہم سب دوڑے اور یہ بھی دیکھا کہ ملبے میں جو لوگ دبے تھے ان میں سے بعض کا سر اس طرح سے پھٹ گیا تھا کہ دماغ کا کچھ حصہ بھی باہر نکل گیا تھا۔  جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر رہنے والے حاجی محمد الیاس قادری نے بتایا کہ پرویز شیخ، جن کا مکان گرا ہے وہ ان کے ہم سبق رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مکان بظاہر قاعدے سے بنایا گیا تھا اور دیکھنے سے یہ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ اس طرح سے اچانک گر جائے گا۔ مکان کے ٹیریس پر ان لوگوں نے قربانی بھی کی تھی اور نیچے صوفے کا کارخانہ چلاتے تھے۔  انہوں نے یہ بھی بتایا پرویز کے گھر کے دیگر لوگوں کا اسپتال میں زیرعلاج جاری ہے اور ان کے اعزہ کے ذریعے یہ اطلاع ملی ہے کہ ان کی حالت میں سدھار آرہا ہے۔
 کنٹریکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت 
 مقامی رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومین کے اعزہ سے اور اسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں سے ملاقات کی اور کلکٹر کو مکتوب روانہ کر کے سرکاری سطح پر معاوضہ اور دوسری سرکاری مدد جلد از جلد دینے کا مطالبہ کیا۔ ابو عاصم اعظمی نے اس حادثے کے تعلق سے کنٹریکٹرز پر سخت کارروائی کئے جانے کی بات کہی ۔ ان کے مطابق جب خاندان بڑھتا ہے تو مکانات کے منزلے بڑھائے جاتے ہیں لیکن اس میں بنیادی غلطی کنٹریکٹرز کی ہوتی ہے کہ وہ منافع کمانے کے لالچ میں نہ تو مٹیریل اچھا استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی مکان کی مضبوطی پر توجہ دیتے ہیں بلکہ عام طور پر وہ جمعہ کی شام کو کام شروع کرکے اتوار کی رات تک ختم کر دیتے ہیں جس سے کمزور بنیادیں مکان کی بالائی منزل کا بوجھ نہیں برداشت کر پاتی ہیں اور اس طرح کے دردناک حادثات میں قیمتی زندگیاں تلف ہو جاتی ہیں۔

govandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK