اسکائی میٹ ویدر کے مطابق حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں کیوں کہ بحیرہ ٔعرب میں نیا موسمی نظام بن رہا ہے جس سے مانسون کمزور ہو سکتا ہے۔
گرمی۔ تصویر:آئی ا ین این
ملک اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور موسم کی تازہ صورتِ حال مزید تشویش پیدا کر رہی ہے۔ موسمیاتی ایجنسی اسکائی میٹ ویدر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کے کم از کم ۴۰؍ شہر بھٹی بن گئے ہیں۔ اتفاق سے یہ تمام شہر شمالی ہند میں واقع ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ گرم شہر اور ضلع یوپی کا باندہ ہے جہاں کا درجہ حرارت ۴۸؍ ڈگری سے تجاوز کرگیا ہے۔ باندہ گزشتہ ۲؍ سے ۳؍ ہفتوں کے دوران کئی مرتبہ دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔شمالی ہند کے جو ۴۰؍ شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیںان میں سے کم از کم ۲۰؍ شہر تو یوپی کے ہی ہیں۔ ان میں اٹاوہ ، باندہ ، اوریہ ، ایٹہ، الٰہ آباد، فتح پور،مین پوری اور سنبھل شامل ہیں۔
اسی درمیان اسکائی میٹ ویدر نے یہ رپورٹ جاری کی ہے کہ بحیرۂ عرب کے اوپر ایک نیا موسمی نظام بن رہا ہے، جو مانسون کی ہواؤں کو کمزور کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خاص طور پر جنوبی ہند اور کیرالہ میں بارش کم ہونے کا خدشہ ہے۔ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ملک کی کئی ریاستوں میں خشک اور گرم ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ ان میں ایم پی ، اتر پردیش، راجستھان ، ہریانہ ، ادیشہ، چھتیس گڑھ، پنجاب،گجرات اور مہاراشٹر شامل ہیں۔ ان ریاستوں میں درجہ حرارت ۴۵؍ ڈگری یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ موسمی ماہرین کے مطابق ’’ویسٹرن ڈسٹربنس‘‘ کے کمزور ہونے کی وجہ سے ملک میں اس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے ۔