Inquilab Logo Happiest Places to Work

اِمپورٹ کم کرنے کیلئے ٹیکس میں اضافہ کی تیاری

Updated: May 21, 2026, 10:30 AM IST | Agency | New Delhi

روپے کی قدر میں گراوٹ سے حکومت پریشان، درآمدی بل اور زرمبادلہ کو بچانے کیلئے غیر ضروری اشیاء کےاِمپورٹ کی حوصلہ شکنی کا منصوبہ۔

Government Wants To Control Import Deficit And Falling Rupee Value By Reducing Imports.Photo:INN
اِمپورٹ کو کم کر کے حکومت درآمدی خسارہ اور روپے کی گرتی قدر پر قابو پانا چاہتی ہے- تصویر:آئی این این
روپے کی قدر میںغیر معمولی گراوٹ سے پریشان مودی حکومت  اور غیر ملکی زرمبادلہ کو بچانے کیلئے  غیر ضروری اشیا اور ان مصنوعات کی درآمدات کا جائزہ لے رہی ہے جن  پر درآمدی (اِمپورٹ کا)انحصار کم ہے تاکہ ملک کے درآمدی بل کو کم کیا جا سکے اور گھریلو پیداواری صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس معاملے سے واقف سرکاری حکام نے بتایا کہ اس پر اگلے ہفتے مغربی ایشیا کے بحران سے متعلق ہونے والی بین وزارتی میٹنگ میں غور کیا جاسکتاہے۔ ضرورت پڑنے پر حکومت ایسے امپورٹ کو محدود کرنے کیلئے  کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ یا پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔
ایک ماہ میں تجارتی خسارہ ۲۸ء۴؍ارب ڈالر
اپریل میں ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر۲۸ء۴؍ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہےجو مارچ میں۲۰ء۷؍ارب ڈالر تھا۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے اخراج اور کمزور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے درمیان اس سے ادائیگیوں کے توازن پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ منگل کو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر۹۶ء۵؍کی ریکارڈ نچلی سطح پر بند ہوا، جبکہ پیر کو یہ۹۶ء۳۴؍ پرتھا۔
ایک سینئر افسر نے بتایا کہ درآمدات پر کسی بھی قسم کی پابندی کو’’بہت احتیاط کے ساتھ‘‘ نافذ کیا جائے گا تاکہ اہم سپلائی چین متاثر نہ ہو۔
روپے کو سہارا دینے کی کوشش
آئندہ ہفتے بین وزارتی میٹنگ میں غیر ضروری اشیا کے درآمدی بل کو کم کرنے، روپے کی حالت اور معیشت کو سہارا دینے  نیز آمدنی بڑھانے کے فوری اقدامات پر بات ہوگی۔
اس میٹنگ میں وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں کے افسران شریک ہوں گے۔ میٹنگ  کے حوالے سے  ایک افسر نے بتایا کہ کئی ایسی اشیاء درآمد کی جا رہی ہیں جو ملک میں ہی تیار ہو سکتی ہیں جس سے روپے پر مزید  دباؤ بڑھ رہا ہے۔
درآمد میں کمی کیلئے اقدامات
مذکورہ افسر نے بتایا کہ ’’فی الحال ہم انڈسٹری کے ذمہ داروں  بات کر رہے ہیں تاکہ ایسی اشیاء کی درآمد سے گریز کیا جائے جو ملک میں تیار ہوسکتی ہیں تاہم  اگر( گفتگو سے بات نہ بنی اور) حالات نے تقاضہ کیا تو پابندیوں یا ڈیوٹی میں اضافے کا  فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘مرکزی حکومت نے گزشتہ ہفتے سونے کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کیا تھا ۔ اس کے بعد  اس کی درآمدات پر پابندیاں بھی عائد کی  ہیں۔  اسی طرح چاندی  کے معاملے میں اس کی  درآمد کو لائسنس سے مشروط کردیا گیا ہے۔
 
 
اشیاء کی فہرست طلب کی گئی
ایک دیگر افسر  بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد بیرونی دباؤ کے درمیان روپے کو سہارا دینا اور ساتھ ہی گھریلو پیداوار کو فروغ دینا ہے۔مرکزی حکومت نے مختلف وزارتوں سے ایسی اشیاء کی فہرست طلب کی ہے جن کی درآمد محدود کی جا سکتی ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں وزیر تجارت پیوش گوئل  نے درآمد کنندگان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایسی مصنوعات بیرون ملک سے نہ منگوائیں جو ملک میں دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا تھاکہ’’آپ کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ کون سی اشیا درآمد ہو رہی ہیں۔ اس میں آپ کو نئے مواقع بھی نظر آئیں گے کہ کون سی چیزیں ہندوستان میں تیار کی جا سکتی ہیں۔‘‘
 
 
افسر نے زور دیکر کہا کہ ’’جب ہم خود اسے تیار کر سکتے ہیں تو پھر درآمد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کئی ایسی اشیاء ہیں جو سستی تو ہوتی ہیں لیکن معیار کے لحاظ سے ناقص ہوتی ہیں۔ اس مسئلے کی نشاندہی وقتاً فوقتاً کی جاتی رہی ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK