کورونا کی نئی پابندیوں کے سبب ۴۰؍ ہزار کروڑ کے نقصان کا امکان

Updated: April 07, 2021, 2:39 PM IST | Agency | New Delhi

ریٹنگ ایجنسی’ کئیر‘ نے دوبارہ معاشی سرگرمیوں کے ٹھپ پڑجانے کا خدشہ ظاہر کیا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ملک بھرمیں  کورونا  وائرس کے نئے معاملوں  میں اضافہ ہونے کے سبب  اب نئی احتیاطی  پابندیوں کو عائد کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مہاراشٹر سمیت  بیشتر ریاستوں میں  شبینہ کرفیو  اور  دن میں بھی صرف لازمی اشیاء اور خدمات کی سرگرمیوںکو مشروط طور جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔  اس کے سبب یک بار پھر معاشی اموردوبارہ سے ٹھپ پڑنے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔  معروف ریٹنگ ایجنسی’ کئیر‘ کے مطابق ملکی سطح پر موجودہ حالات اور مرکز و ریاستی حکومتوں کی جانب سے نئی پابندیوں کے اقدامات  کاسب سے زیادہ اثر تجارت ، سیاحت ، ہوٹل انڈسٹری ، ٹرانسپورٹ اور  دیگر  شعبوں پر پڑے گااور  اس کے نتیجے میں معیشت کو تقریباً ۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔  ریٹنگ  ایجنسی نے متنبہ کیا ہےکہ آنے والے دنوں معاشی سرگرمیوں میں۰ء۳۲؍فیصد کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ قابلِ غور ہے کہ’ کیئر‘ نے ایک ہفتہ قبل ہی  جی ڈی پی  میں بھی کمی آنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔  رینٹنگ ایجنسی نے اندازہ ظاہر کیا کہ  نئی پابندیوں سے رئیل اسٹیٹ ، فائنانشل سیکٹر اور پیشہ ورانہ خدمات پر بھی اثر پڑے گا۔ ا نہیں تقریباً۹۸۸۵؍ کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ وہیں پبلک سیکٹر کو۸۱۹۲؍کروڑ روپے کا خسارہ  جھیلنا پڑسکتا ہے۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ مہاراشٹر ملک کے جی ڈی پی میں نمایاںتعاون کرنے وا لی ریاستوں میں شامل ہے۔ اس کے بعد تمل ناڈو ، گجرات ، اتر پردیش اور کرناٹک کا نمبر آتا ہے۔ ایجنسی کے مطابق  مہاراشٹر اور خصوصاً ملک کی معاشی راجدھانی میں کورونا  کے نئے  معاملے بڑھنے کی رفتار اور اس کے سبب عائد کی گئی سخت  پابندیوں کاثر واضح طور  پر ملک کی جی ڈی پی  پر بھی ہوگا۔ ایجنسی کے مطابق اس لاک ڈاؤن سے صارفین کی مانگ میں کمی آئے گی۔ نیز ، اس کا اثر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی دیکھا جائے گا۔ معاشی سرگرمیاں ٹھپ  ہونے کی وجہ سے بجلی کا شعبہ بھی  متاثرہوگااور بجلی کی مجموعی پیداوار پر اثر پڑے گا۔ اسی کے ساتھ  رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے تعمیراتی کام اور نئے منصوبوں پر بھی برا اثر پڑے گا۔ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ضروری دکانوں پر پابندی عائد کرنے سے خوردہ  سیکٹر ، ای کامرس پلیٹ فارم کو تھوڑا فائدہ ضرور ہوگا۔
  قابلِ غور ہے کہ  حال میں پرچیسنگ منیجر انڈیکس ( پی ایم آئی )کی رپورٹ میں  بتایا کہ ہے کہ کورونا کی نئی لہر کے سبب   ملک  بھر صنعتی سرگرمیاں  شدید متاثر ہوہرہی ہیں۔  اس کے نتیجے میںمارچ  میں فیکٹریوں کی پیداوار کی شرح بھی گھٹی ہے۔ یہ شرح فروری میں۵۷ء۵؍ فیصد تھی جو مارچ میں گھٹ کر ۵۵ء۴؍ رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں بھی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن اور سخت  پابنداویاں مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لئے چیلنج ہو گی۔ ماہرین وہیںکچھ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ کورونا کی ٹیکہ کاری کی شرح بڑھنےا ور احتیاطی اقدامات پر سختی سے عمل   کئے جانے سےکورونا کے نئے معاملوں میںکمی آسکتی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد دوبارہ معیشت کا پہیہ گھومنے لگے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK