عائشہ صدیقہ گرلز اسکول کی فریدہ سلیم خان نے بی اے پاس ہونےکےباوجود ٹیچر کی ملازمت نہ ملنے پر ۱۵؍سال قبل پیون کی ملازمت کی تھی۔
فریدہ سلیم خان۔ تصویر: آئی این این
یہاں کے گلزار نگر ،کچہری پاڑہ کی ۴۵؍سالہ فریدہ سلیم خان نےٹیچر کی ملازمت نہ ملنے کی صورت میں بی اے پاس ہونےکےباوجود ۱۵؍سال قبل نئے گائوں میں واقع عائشہ صدیقہ گرلز اُردو پرائمری اسکول میں پیون کی ملازمت اختیار کی تھی۔پیون کی نوکری سےملنےوالی معمولی رقم سے مالی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے، انہوںنےنوکری کےساتھ ایم ایس سی آئی ٹی کاکورس،۹۱؍فیصد مارکس سے مکمل کرکے آن لائن ٹریڈنگ شروع کی جس میں بہترین بزنس کرنے پر انہیں بہترین ری سیلر کے اعزاز سے نوازاگیا۔
فریدہ سلیم خان کےمطابق ’’ میرا تعلق مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع کے سہیرول گائوں سے ہے۔ بی اے کی پڑھائی کےبعد معاشی تنگی کی وجہ سےمیںنے اپنے گائوں کی ایک اسکول میں کے جی سے دوسری جماعت کے بچوںکوپڑھانےکیلئے ملازمت کرلی تھی۔یہاں ۷؍سال تک بچوں کوپڑھایا ،لیکن میرے خاوندکو وہاں ملازمت نہیں مل رہی تھی اس وجہ سےہم لوگ بھیونڈی منتقل ہوگئے۔ یہاں مختلف اسکولوںمیں ملازمت تلاش کی لیکن کہیں بھی موقع نہیں ملا،مجبوراً میں نے مذکورہ اسکول میں پیون کی نوکری کرلی ۔پیون کی معمولی تنخواہ سے میری ضروریات پوری نہیں ہورہی تھیں ،اس لئے میں نےنوکری کرتے ہوئے فاضل وقت میں کمپیوٹر کاکورس کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایم ایس سی آئی ٹی کا کورس بھیونڈ ی کےمقامی ادارہ سے۹۱؍فیصد مارکس سےمکمل کرنےکےبعدمیرے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بعدازیںمیں نے آن لائن ٹریڈنگ کی تربیت حاصل کرکے مختلف کمپنیوں کے گھریلو سازوسامان کی سپلائی شروع کی جس میں نمایاں کامیابی ملی ۔ حال میں بھیونڈی کی ایک کمپنی نے مجھے عمدہ ری سیلر کے اعزاز سے بھی نوازا ہے۔‘‘
ایک سوال کےجواب میں فریدہ سلیم نے بتایاکہ ’’ ہمیں دشوارکن حالات میں ہمت نہیں ہارناچاہئے ۔ اس فکر کانتیجہ ہےکہ ٹیچرکی ملازمت نہ ملنے پر میں نے پیون کی نوکری کی لیکن اس کےساتھ مزیدتعلیم حاصل کرنےکی کوشش جاری رکھی۔ انسان کو ہرحال میںآگے بڑھنےکی کوشش کرنی چاہئے،سومیں کررہی ہوں۔ ملازمت اور گھریلو ذمہ داریوںکو نبھاتےہوئے آگے بڑھنے کاعزم ہے۔‘‘