ایم آئی ایم لیڈر نے اتل ساوے اور سنجے شرساٹ پر حملہ کروانے کا الزام لگایا۔
حملے کی کوشش۔ تصویر: آئی این این
مجلس اتحادالمسلمین امتیاز جلیل پر اورنگ آباد میں حملے کی کوشش کی گئی ہے۔ بدھ کے روز وہ اورنگ ااباد کے بائی جی پورہ میں ایک ریلی کر رہے تھے۔ ریلی کے بعد جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جانے لگے تو کچھ لوگوں نے ان کی گاڑی پر حملے کی کوشش کی لیکن اسے ایم آئی ایم کارکنان نے ناکام بنا دیا۔ امتیاز جلیل نے اس حملے کے تعلق سے بی جے پی کے اتل ساوے (وزیر ) اور شیوسینا (شندے) کے سنجے شرساٹ (وزیر ) پر الزام لگایا ہے جبکہ ایم آئی ایم کے مقامی کارکنان نے کانگریس کے امیدوار کلیم قریشی کو اس حملے کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اطلاع کے مطابق مہاراشٹر ایم آئی ایم کے صدر امتیاز جلیل نے اورنگ آباد کے بائی جی پورہ علاقے میں ایک ریلی نکالی اور مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ جب ریلی ختم کرنے کے بعد وہ اپنی کالے رنگ کی تھار گاڑی میں بیٹھ کر جانے لگے تو کچھ لوگوں نے ان کی گاڑی کے گرد جمع ہو کر نعرے لگائے اور ان کی گاڑی پر مکے مارے۔ ایک حملہ آور نے ان کی گاڑی پر چڑھ کر اندر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی لیکن ایم آئی ایم کارکنان نے فوری طور پر اسے نیچے اتارا خود اوپر چڑھ کر امتیاز جلیل کو حملے سے بچانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ان کی گاڑی آگے نکل گئی۔
حملے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امتیاز جلیل نے کہا ’’ اتل ساوے اور سنجے شرساٹ کے کہنے پر میری ریلی روکنے کی کوشش کی گئی اور میری گاڑی پر حملہ کیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہمیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ ہماری ریلی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس لئے ہم چوکنا تھے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ ہم ریلی نہیں نکالیں گے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ سیاست میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہم اپنی ریلیاں نکالیں گے پوری طاقت کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔‘‘
حالانکہ ایم آئی ایم کے مقامی کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کانگریس کے امیدوار کلیم قریشی کے ورکروں نے کیا ہے جو ایم آئی ایم کی ریلی کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ جبکہ کلیم قریشی کا کہنا ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے سے ایم آئی ایم کے کئی کارکنان امتیاز جلیل سے ناراض ہیں۔ انہی لوگوں نے یہ حملہ کیا ہوگا یا پھر امتیاز جلیل نے خود ہی پیسے دے کرحملہ کروایا ہوگا۔