بی جے پی لیڈر نے کہا ’’ مجھے خوشی ہے کہ شیواجی مہاراج پاٹی دار تھے ‘‘ مہاراشٹر کے لیڈران اور ماہرین کی جانب سے سخت رد عمل۔
مرکزی وزیر آر سی پاٹل کے بیان پر ناراضگی۔ تصویر: آئی این این
گجرات سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر آر سی پاٹل نے چھترپتی شیواجی کی ’ذات‘ سے متعلق ایک بیان دے کر ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے جس پر مہاراشٹر کے لیڈران نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ آر سی پاٹل کا کہنا ہے کہ چھترپتی شیواجی ’پاٹی دار‘ تھے۔ یاد رہے کہ گجرات میں پٹیل برادری کو ’ پاٹی دار‘ بھی کہا جاتا ہے جو پسماندہ طبقات کے زمرے میں آتی ہے۔ حالانکہ تاریخی اعتبار سے یہ بات بالکل غلط ہے کہ چھترپتی شیواجی کا پٹیل برادری سے کوئی تعلق تھا۔
اطلاع کے مطابق آر سی پٹیل گجرات کے سورت شہر میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’’ پورے ملک کو متحد کرنےکا سہرا سردار پٹیل کے سر پر باندھا جانا چاہئے۔ ان کا تعلق پاٹی دار سماج سے تھا۔ پاٹی دار سماج کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بھی بھوکا نہ سوئے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چھترپتی شیواجی بھی پاٹی دار سماج سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے ہندو سماج کو متحد اور مضبوط کرنے کا کام پوری کامیابی کے ساتھ کیا۔‘‘
آر سی پاٹل کے اس بیان پر مہاراشٹر میں سخت رد عمل دیکھنے کو ملا۔ شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے اسے مراٹھا سماج کی توہین قرار دیا ہے۔ رائوت نے کہا کہ ’’ میں نے ان کی تقریر سنی ہے۔ یہ شیواجی مہاراج کو گجراتی بنانے کی کوشش ہے۔ چھترپتی شیواجی مراٹھا حکومت اور ہندوی سوراج کے راجا تھے۔ انہوں نے سورت کو لوٹا تھا۔ آپ اس طرح کے مخمصے مت پیدا کیجئے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ یہ مراٹھا سماج کی توہین ہے۔ شیواجی مہاراج مہاراشٹر کیلئے قابل تعظیم ہیں۔ بی جے پی نے کئی عہد ساز شخصیات کو چُرانے کی کوشش کی ہے۔ سبھا ش چندر بوس، رویندر ناتھ ٹیگور، اور سردار پٹیل ان سبھی کو اپنانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر میں اب وہ شیواجی مہاراج کو چُرا کر گجرات لے جانا چاہتے ہیں لیکن میں بی جے پی والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ شیواجی مہاراج کے آگے کوئی ذات نہ لگائیں کیونکہ وہ ایک عالمی شخصیت تھے۔
اس تعلق سے مہایوتی حکومت میں شامل نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے بھی آر سی پاٹل کی معلومات درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا’’ چھترپتی شیواجی کا شجرۂ نسب ہر کسی کو معلوم ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے طور پر بات کرتا ہے۔ میں نے آر سی پاٹل کی تقریر نہیں سنی ہے لیکن یہ ہر بات کوئی جانتا ہے کہ چھترپتی شیواجی کا تعلق بھوسلے گھرانے سے تھا اور ستارا کی گدی کیا ہے یہ بھی سبھی کو معلوم ہے۔ معروف تاریخ داں سنجے سونائونے کا کہنا ہے کہ ’’ چھترپتی شیواجی کو کسی بھی ذات ، سماج یا مذہب کے خانے میں ڈالنا بے وقوفی ہے۔ شیواجی مہاراج سبھی کے تھے ، البتہ تاریخ کہتی ہے کہ وہ ( ذات سے) مراٹھا تھے۔ ‘‘یاد رہے کہ چھترپتی شیواجی کے تعلق سے بی جے پی لیڈران پہلے بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں۔