ملک کے زرعی سیکٹر میں ۵؍ مراکز نالج پارٹنر کے طور پر منتخب

Updated: August 08, 2020, 11:57 AM IST | New Delhi

مرکزی حکومت کی جانب سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے،مالی اعانت بھی جاری ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ملک میں زراعت کو فروغ دینے کیلئے محکمہ زراعت نے۵؍ ’نالج پارٹنرز‘ (کے پی) کو ایکسیلینس سینٹرکے طور پر منتخب کیا ہے۔وزارت زراعت کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر ایکسٹینشن مینجمنٹ (ایم اے این اے جی ای ) حیدرآباد ، نیشنل زرعی مارکیٹنگ انسٹی ٹیوٹ (این آئی اے ایم) جے پور ، ہندوستانی زرعی تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی) پوسا ، نئی دہلی ، کرناٹک اور آسام زرعی یونیورسٹی ، جورہاٹ کو ایک بہترین مرکز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ملک بھر میں ۲۴؍ اسپیڈ ایگری بزنس انکیوبیٹرز (آر ۔ اے بی آئی ) بھی مقرر کئے گئے ہیں ۔ اس اسکیم کے تحت ، انٹرپرینیورشپ اورینٹیشن کے ذریعہ دو ماہ کی مدت کے لئے ہر ماہ۱۰؍ ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔ مالی ، تکنیکی ، آئی پی ایشوز وغیرہ پر مینٹر شپ کی رہنمائی کی جائے گی۔
  آر بی آئی انکیو بیٹس کے بیج اسٹیج فنڈنگ کے تحت ۲۵؍ لاکھ روپے تک کی فنڈنگ ( ۸۵؍ فیصد گرانٹ اور۱۵؍ فیصد شراکت) فراہم کی جائے گی۔ایگری پرینیورس کے آئیڈیا ، پری سیڈ اسٹیج فنڈ کے تحت پانچ لاکھ روپے تک کی فنڈنگ(۹۰؍ فیصد گرانٹ اور انکیوبیٹ سے۱۰؍ فیصد شراکت) فراہم کی جائے گی۔کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ قومی زرعی ترقیاتی منصوبے کے تحت ایک جزو کے طور پر جدت طرازی اور زرعی انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیا گیاہے جس کو مالی اعانت فراہم کرکے انکیوبیشن ایکو سسٹم کو فروغ دیکر جدت اور زرعی کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لئے شروع کیا جا سکے۔ یہ اسٹارٹ اپ مختلف زمروں میں مثلاً زرعی پروسیسنگ ، مصنوعی ذہانت ، ڈجیٹل زراعت ، زرعی میکانائزیشن ، ویسٹ ٹو ویلتھ ، ڈیری ، ماہی گیری وغیرہ میں ہیں ۔ ملک بھر میں ۲۴؍ آر کے وی وائی اسپیڈ ایگری بزنس انکیوبیٹرز (آر۔اے بی آئی) بھی مقرر کئے گئے ہیں ۔کچھ اسٹارٹ اپ جنہیں انکیوبیٹ کیا جارہاہے:ایکٹیکس انیمل ہیلتھ ٹیکنالوجیز، ویٹرنری ڈاکٹروں کا ایک نیٹ ورک ہے ، جو صارفین یعنی جانوروں کے مالکوں کو ’ریئل ٹائم ٹیلی کنسلٹنٹ ‘اور ’ڈور اسٹیپ وزٹ‘کے ذریعے فوری رابطہ قائم کرتا ہے۔ای ایف پولیمر کے ذریعہ کاشتکاروں کے لئے پانی کی قلت کے بحران سے نمٹنے کے مقصد سے ماحول دوست ’واٹر ریٹینشن پالیمر‘ تیار کیاگیا ہے۔ اس اسٹارٹ اپ نے مٹی میں پانی کو ملانے ،اسے طویل عرصہ تک بنائے رکھنے اورضرورت کے مطابق فصلوں کو فراہم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جن اسٹارٹ اپس کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں کئی اسٹارٹ اپس ایسے جن کو خواتین آپریٹ کررہی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK