• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈرافٹ لسٹ میں ایک ایک بوتھ پر۵۰؍فیصد ووٹرانوملی میں شامل

Updated: September 13, 2026, 1:03 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

عجب صورتحال۔ بیشتر شہریوں کو علم ہی نہیں۔ بہت سے بی ایل او کواب تک تضاد ووٹرلسٹ میں شامل کئے جانے والے ووٹرس کی فہرست ہی نہیں ملی۔

People busy searching for names at a booth center. Photo: INN
ایک بوتھ سینٹر پر لوگ نام کی تلاش میں مصروف۔ تصویر:آئی این این

ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ایک ایک بوتھ پر۵۰؍ فیصد یا اس سے بھی زائدووٹرز کو حیرت انگیز طور پر انوملی یعنی بے ضابطگی والی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس سے رائے دہندگان اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر )کے طریقہ ٔ کار پر برہمی کا اظہار کررہے ہیں اور اس پر بھی سوال کررہے ہیں کہ الیکشن افسر کا یہ کہنا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی ہی حق رائے دہی کرسکیں، کیا جن کا نام برسوں سے شامل رہا ہے اور وہ پابندی سے ووٹ دیتے رہے ہیں ، اب انہیں انوملی میں شامل کرکے مشکوک قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے؟ 
بیشتر شہری لاعلم 
بیشتر شہری اس سے لاعلم ہیں کہ نام، عمر یا رہائشی پتہ وغیرہ میں غلطی پر انہیں نوٹس جاری کیاجائے گا۔ یہ اندازہ الگ الگ علاقوں میں رائے دہندگان سےبات چیت کرنےپر ہوا۔ بات چیت کے دوران ان کا جواب تھا کہ ان کا نام تو لسٹ میں آگیا ہے۔ دراصل وہ ڈرافٹ ووٹرلسٹ ہی کو حتمی فہرست سمجھ بیٹھے ہیں۔ 
۵۰؍فیصد ووٹر تضاد لسٹ میں شامل 
مد نپورہ میں کشور نام کے بی ایل او سے رابطہ قائم کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’’ کئی ووٹر ایسے ہیں جنہیں انوملی میں شامل کیا گیا ہے لیکن حتمی تعداد ان کے ذہن میں نہیں ہے۔ ان کو جلد ہی نوٹس دیا جائے گا۔ ‘‘
مالونی (ملاڈ) پارٹ نمبر۳۳؍ میں ایک ہزار سے زائدووٹر میں سے ۴۹۵؍ ووٹرس کو تضاد لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہاں کے بی ایل او گوساوی کا کہنا ہے کہ’’ ان ووٹرس کوگنپتی کے بعد نوٹس دیا جائے گا۔ ‘‘ 
اسی سے متصل پارٹ نمبر۳۲؍ میں بی ایل او شمبھو مدن لال لہری کے مطابق ’’۱۲۰۰؍سے زائد ووٹرس میں سے ۶۰۰؍ سے زائد ووٹرس کو انوملی میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کو نوٹس جاری کیا جائے گا مگر ہم نوٹس اس وقت لے جائیں گے جب ہم کو اسکول سے کہا جائے گا کیونکہ ہم راست طور پرالیکشن کمیشن کے ماتحت نہیں ہیں۔ ‘‘ 
بی ایل او کو لسٹ ہی نہیں ملی 
میراروڈ میں پارٹ نمبر۳۰۰؍ کے بی ایل او سے یہ معلوم کرنے پر کہ ان کے پارٹ میں کتنے ووٹروں کوتضاد فہرست میں شامل کیا گیا ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ میرے لئے تعدادیا فیصد بتانا اس لئے مشکل ہے کیونکہ ابھی مجھے وہ لسٹ ہی نہیں ملی ہے۔ جیسے ہی ملے گی رائے دہندگان کومطلع کیا جائے گا۔ ‘‘
انوملی کا بڑا سبب بی ایل او کا تساہل ہے 
گوونڈی میں ڈاکٹرذاکر حسین نگر میں بی ایل او کی ذمہ داری ادا کرنے والے نوجوان نے بتایاکہ ’’ ان کے حلقے میں ۱۳۶۰؍ ووٹرس تھے۔ ان میں سے ۳۰۰؍ سے زائد کو انوملی میں شامل کیا جانا تھا مگر انہوں نےکافی محنت کی ا ورصحیح طریقے سےمیپنگ کی جس کانتیجہ ہے کہ یہ تعداد کم ہوکر محض ۱۶۰؍ رہ گئی ہے۔ ‘‘ 
انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’ دیگر وجوہات کے علاوہ انوملی کا ایک بڑا سبب بی ایل او کا تساہل ہے۔ انہوں نےاگر محنت کی ہوتی تو بہت سے ووٹرس کونہ تونوٹس جاری کیا جاتا اورنہ ہی انہیں ضروری دستاویزات بتانے اورالیکشن افسر کے سامنے حاضر ہونے کی ضرورت ہی پڑتی۔ ‘‘
انوملی میں شامل ووٹر کہاں جائیں؟
چیتا کیمپ کے بی ایل او رفیق شیخ نے انقلاب کو بتایا کہ ’’یہاں وارڈ نمبر۱۳۳؍ اور ۱۳۵؍میں مجموعی طور پر۱۹؍ بوتھ ہیں ۔ ابھینو اسکول، شاہ جی نگر میونسپل اردو اسکول نمبرایک اور تمل اسکول میں ۳؍ سینٹر بنائے گئے ہیں مگر ۱۲؍دن گزرجانے کے باوجود ای آر او نہیں آئے ہیں۔ آخر انوملی والے ووٹرس کہاں اپنے دستاویزات لے جاکر نام درست کرائیں جبکہ وقت بہت کم ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK