امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں انتہائی دولت مند افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ میں کم از کم۵۷؍ ایسے عہدیدار شامل ہیں جن کے ذاتی اثاثوں کی مالیت ۱۰۰؍ ملین ڈالر یا اس سے زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 4:19 PM IST | New York
امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں انتہائی دولت مند افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ میں کم از کم۵۷؍ ایسے عہدیدار شامل ہیں جن کے ذاتی اثاثوں کی مالیت ۱۰۰؍ ملین ڈالر یا اس سے زیادہ ہے۔
امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں انتہائی دولت مند افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پبلک سٹیزن کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں کم از کم۵۷؍ ایسے عہدیدار شامل ہیں جن کے ذاتی اثاثوں کی مالیت ۱۰۰؍ ملین ڈالر یا اس سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رنویر الہابادیا کا دعویٰ، فلم انڈسٹری سے زیادہ پیسہ کانٹینٹ کریئیشن میں ہے
یہ تعداد سابقہ ۳؍ صدورجارج ڈبلیو بش، بارک اوبامہ اور جو بائیڈن کی انتظامیہ میں ایسے انتہائی امیر افراد کی مجموعی تعداد سے بھی چار گنا سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ۵۷؍ انتہائی دولت مند عہدیداروں میں ۱۷؍ سفیر جبکہ ۴۰؍اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افراد شامل ہیں۔ ٹرمپ کی کابینہ میں ۲۳؍ میں سے ۸؍ اراکین ایسے ہیں جن کے اثاثے کم از کم ۱۰۰؍ ملین ڈالر بتائے گئے ہیں۔ ان میں کئی ارب پتی بھی شامل ہیں۔
پبلک سٹیزن کے تجزیے کے مطابق ان ۵۷؍ افراد کے مشترکہ اثاثے تقریباً ۹ء۱۳؍ ارب سے۸ء۳۴؍ ارب ڈالرس کے درمیان ہو سکتے ہیں۔ ان میں کم از کم ۸؍افراد ارب پتی ہیں۔ سرکاری مالیاتی ڈسکلوزر ریکارڈز میں بعض افراد کی دولت بہت زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر و پبلیکا کے ڈیٹا میں نائب وزیرِ دفاع اسٹیفن فینبرگ کے اثاثے تقریباً ۲؍ ارب ڈالر، برطانیہ میں سفیروارین اسٹیفنس کے تقریباً ۱ء۱؍ ارب ڈالر اور بحریہ کے وزیرجان پھیلن کے تقریباً ۷۹۱؍ ملین ڈالر دکھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہرمز کے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے کیلیفورنیا کو اپنا ’’نیا علاقہ‘‘ قرار دیا
ٹرمپ نے دولت مند افراد کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کے رجحان کو مالی اور کاروباری تجربے سے جوڑا ہے۔ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے کاروبار چلانے والے افراد معیشت، سرمایہ کاری اور انتظامی معاملات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت میں اتنی بڑی تعداد میں انتہائی دولت مند افراد کی موجودگی مفادات کے ٹکراؤ کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ پبلک سٹیزن کی شریک صدر لیزا گلبرٹ نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت کی باگ ڈور بڑی حد تک انتہائی امیر طبقے سے آنے والے افراد کے ہاتھ میں ہو تو کیا حکومتی پالیسیاں عام شہریوں کے بجائے امیر طبقے کے مفادات کی طرف زیادہ جھک سکتی ہیں۔
۵۷؍ افراد کی فہرست میں ۱۷؍ سفیر بھی شامل ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدور ماضی میں بھی بڑے سیاسی اور مالی معاونین کو سفارتی عہدے دیتے رہے ہیں۔ تاہم پبلک سٹیزن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں اس رجحان کا حجم غیر معمولی ہے۔ رپورٹ میں خود ڈونالڈ ٹرمپ کو۵۷؍ افراد میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایلون مسک بھی اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔ پبلک سٹیزن کی گنتی بنیادی طور پر ٹرمپ کے مقرر کردہ سرکاری عہدیداروں پر مرکوز ہے۔