این سی پی ( شرد) کی جنرل سیکریٹری انجلی سالوے نے سوال کیا کہ جب او بی سی سماج کی تعداد ہی نہیں معلوم ہے تو منصوبہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 4:17 PM IST | Ali Imran | Nagpur
این سی پی ( شرد) کی جنرل سیکریٹری انجلی سالوے نے سوال کیا کہ جب او بی سی سماج کی تعداد ہی نہیں معلوم ہے تو منصوبہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد ) کی ریاستی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ انجلی سالوے وٹنکر نے مرکزی حکومت پر او بی سی کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا کیونکہ ۲۰۲۷ ءکی مردم شماری کے دوسرے مرحلے کے سوالنامے میں او بی سی کیلئے الگ کالم شامل نہیں ہے، بلکہ کالم میں صرف ذات کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریزرویشن کے نام پر مراٹھا اور اوبی سی آمنے سامنے
ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ مردم شماری میں او بی سی کی الگ سے گنتی کو شامل کیا جائے اور اس کیلئے ایک واضح علاحدہ کالم شامل کیا جائے۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۱ ءکی مردم شماری کو کورونا کی وجہ سے ۲۰۲۷ ءتک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں او بی سی کا الگ سے کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مطالبات اور احتجاج شروع ہوئے۔ سالوے نے دعویٰ کیا کہ مرکز نے یقین دلایا ہے کہ دوسرے مرحلے میں او بی سی کی گنتی کی جائے گی۔ تاہم، ۱۴؍اگست ۲۰۲۶ کے نوٹیفکیشن کے سوالنامے میں، سوال نمبر ۱۰ میں درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور `ذات کا ذکر ہے۔ جبکہ او بی سی کے لیے علاحدہ کالم نہ ہونے پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ذات کے اوپن اینڈڈ آپشن کے نتیجے میں ریکارڈ میں بڑی تعداد میں غلطیاں ہونے کا امکان ہے، کیونکہ تمام سماجی زمروں میں ذاتیں اور ذیلی ذاتیں ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سینٹرل ریلوے کی تمام لوکل ٹرینوں کے لیڈیز ڈبے میں سی سی کیمروں کی تنصیب
سالوے نے دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے او بی سی کی صحیح آبادی کا تعین کرنے کیلئے درکار ڈیٹا دستیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسکے نتیجے میں، او بی سی کی آبادی کے سرکاری اور معروضی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوں گے۔جبکہ آئین کی دفعہ۳۴۰ کے مطابق پسماندہ طبقات کی معروضی معلومات دستیاب ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب او بی سی کی صحیح آبادی معلوم نہیں ہے تو اسٹریٹجک منصوبہ بندی کس بنیاد پر کی جاتی ہے؟ ایڈوکیٹ سالوے نے خبردار کیا ہے کہ مردم شماری کے سوالنامے میں او بی سی کیلئے ایک علاحدہ کالم فوری طور پر شامل کیا جانا چاہئے اور علاحدہ مردم شماری کروائی جانی چاہئے۔ بصورت دیگر ملک گیر شدید احتجاج کیا جائے گا۔