Updated: August 20, 2026, 5:03 PM IST
| New York
امریکہ کا مجموعی قومی قرض پہلی بار ۴۰؍ ٹریلین ڈالرس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کے اختتام پر مجموعی سرکاری قرض تقریباً ۰۴۷ء۴۰؍ ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سنگِ میل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کو بڑھتے بجٹ خسارے، سماجی پروگراموں کے اخراجات اور قرض پر بڑھتے سودی بوجھ کا سامنا ہے۔
امریکہ کا مجموعی قومی قرض پہلی بار ۴۰؍ ٹریلین ڈالرس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کے اختتام پر مجموعی سرکاری قرض تقریباً ۰۴۷ء۴۰؍ ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سنگِ میل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کو بڑھتے بجٹ خسارے، سماجی پروگراموں کے اخراجات اور قرض پر بڑھتے سودی بوجھ کا سامنا ہے۔ امریکہ کا قومی قرض جنوری ۲۰۱۷ء میں تقریباً ۹۵ء۱۹؍ ٹریلین ڈالرس تھا، جب ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اب یہ رقم دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ قرض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ کورونا وبا کے دوران حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اخراجات تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ اور موجودہ حکومتوں کی مالی پالیسیوں، مستقل بجٹ خسارے اور ٹیکس و اخراجات کے درمیان عدم توازن نے بھی قرض کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مشفق کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے
امریکہ کے لیے مسئلہ صرف قرض کی مجموعی رقم نہیں بلکہ اس قرض پر ادا کیا جانے والا سود بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بلند شرحِ سود اور قرض کے بڑھتے حجم کی وجہ سے وفاقی حکومت کو ہر سال بڑی رقم صرف سود کی ادائیگی پر خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ روئٹرز کے مطابق قرض پر سود کی لاگت اب وفاقی حکومت کے سب سے بڑے اخراجاتی شعبوں میں شامل ہو چکی ہے اور بعض بڑے پروگراموں کے اخراجات سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔
امریکی حکومت نے مالی سال ۲۰۲۶ء کے پہلے ۱۰؍ ماہ میں تقریباً ۸ء۱؍ ٹریلین ڈالر کا قرض لیا۔ صرف جولائی میں تقریباً ۴۳۲؍ ارب ڈالرس کا نیا قرض لیا گیا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو پورے مالی سال میں امریکی قرض گیری ۲؍ ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اگست میں بتایا کہ جولائی سے ستمبر ۲۰۲۶ءکی سہ ماہی کے دوران حکومت کو تقریباً ۷۳۹؍ ارب ڈالرس کا خالص قابلِ فروخت قرض لینے کی توقع ہے، جبکہ اکتوبر سے دسمبر کی سہ ماہی میں یہ رقم تقریباً ۶۲۸؍ارب ڈالر رہنے کا اندازہ ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتا قومی قرض طویل مدت میں حکومت کے لیے کئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سود کی ادائیگیوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کے پاس انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر خرچ کرنے کے لیے نسبتاً کم وسائل بچ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’برہماستر ۲‘‘ آخرکار بننے جا رہی ہے! رنبیراور عالیہ کے ساتھ دپیکا کی شمولیت کا امکان
زیادہ حکومتی قرض سے بانڈز کی پیداوار اور قرض لینے کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر کاروباری سرمایہ کاری، رہائشی قرضوں اور صارفین کی مالی صورتحال پر پڑ سکتا ہے۔ امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس (GAO) نے بھی خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا وفاقی قرض طویل مدت میں معاشی اور قومی سلامتی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ امریکہ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ بجٹ خسارے کو کیسے کم کیا جائے۔ اس کے لیے اخراجات میں کمی، ٹیکس آمدنی میں اضافہ یا دونوں اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم سوشل سیکوریٹی، میڈی کیئر، دفاعی اخراجات اور دیگر بڑے پروگراموں میں تبدیلی سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ۴۰؍ ٹریلین ڈالر کا قرض صرف ایک بڑا عدد نہیں بلکہ امریکی مالیاتی نظام پر بڑھتے دباؤ کی علامت ہے۔ اگر حکومت آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے فرق کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو آنے والے برسوں میں سود کی ادائیگی اور قرض گیری دونوں مزید بڑے مالی چیلنج بن سکتے ہیں۔