Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنکاک میں جمناسٹک کے ۶؍ مقابلوں میں ۶؍ گولڈ میڈل

Updated: April 07, 2026, 9:41 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

مور لینڈ روڈ اگری پاڑہ کے ۸؍ سالہ جمناسٹک چمپئن محمد حسنین نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔

Mohammed Hasnain.Photo:INN
محمد حسنین۔ تصویر:آئی این این
مور لینڈ روڈ اگری پاڑہ کے دستگیر ہاؤس میں رہنے والے ۸؍ سالہ جمناسٹک چیمپئن محمد حسنین نے بینکاک میں انڈر ۱۰؍ میں الگ الگ زمرے میں ہونے والے مقابلوں میں ایسی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ پورا اسٹیڈیم عش عش کر اٹھا ۔
جمناسٹک کے ۶؍ الگ الگ زمروں میں ہونے والے مقابلوں میں  محمدحسنین محمد ذوہیب کلوا  ایک دو نہیں بلکہ ۶؍ گولڈ میڈل حاصل کرکے سرفہرست رہا۔حسنین نے ۱۵؍دیگر ممالک کے بچوں کا مقابلہ کیا  اورسبقت حاصل کی۔ ’پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں‘ کی مصداق حسنین کے والدین نے  اپنے بچہ کی پھرتی اور جمناسٹک کی صلاحیتوںکو ۵؍ سال کی عمر میں ہی پرکھ لیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ لٹل چیمپئن حسنین کے والد نے ماٹونگا میں اسپورٹس پارک آف انڈیا اکیڈمی میں اسے ۵؍سال کی عمرمیں ہی داخل کرا دیا تھا۔ پھر کیا تھا،حسنین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کم عمری میں ہی ریاستی سطح پر گولڈ ، سلور اور برونز میڈل اپنے نام کرنے کا جو سلسلہ  اس نے  شروع کیا تھا وہ  جاری رہا اور اب  عالمی سطح پر بھی اس نے اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ بینکاک میں سکینڈ لیول جمناسٹک انڈر ۱۰؍کے تمام گولڈ میڈل حسنین نے اپنے نام کرلئے  ہیں۔
انقلاب سے بات چیت کے دوران حسنین نے شرماتے ہوئے کہا کہ’’ میں ہندوستان کیلئے  ایشین اور اولمپک گیمز میں حصہ لینا چاہتے ہوں اوراپنی صلاحیتوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہتاہوں ۔‘‘
 
 
۲۷؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو بنکاک میں منعقد ہونے والے جمناسٹک کے ۶؍ زمرے میں ہونے والے اس مقابلہ میں ماٹونگا اسپورٹس پارک اکیڈمی  سے حسنین کے علاوہ ۲؍ اور بچوں نے حصہ لیا تھا ۔تھائی کنیڈین اسپورٹس اکیڈمی کے زیر اشتراک بنکاک جمناسٹک چمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا تھا۔حسنین نے ’فلور ایکسرسائز، ہوری زینٹل بار ، پیرلل بار ، پومیل ہارس ، اسٹیل رنگس اور والٹ مقابلہ میں بنا فاؤل کئے بہترین کا کردگی کا مظاہرکیا۔ اس مقابلہ میں حسنین نے جہاں ۶؍ گولڈ میڈل حاصل کئے۔ وہیں اس اکیڈمی کے دوسرے بچے زین فیروز مکلائی نے بھی ۲؍گولڈ اور ایک سلور میڈل جیتا ہے ۔
 
 
حسنین گزشتہ تین برس سے مذکورہ اکیڈمی اور ٹرینرابھیشیک چیکر کی قیادت میں ٹریننگ حاصل کررہا ہے ۔ گزشتہ سال دہلی اور حیدر آباد میں بھی حسنین نے ۲؍ گولڈ ، ۳؍ سلور اور ایک برونزمیڈل جیتا تھا ۔ سینٹ زیویئرس انگلش ہائی اسکول میںتیسری جماعت میں زیر تعلیم حسنین اپنے ۵؍بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹا ہے ۔ اس کے والدہ ذوہیب  پرفیوم کی تجارت کرتے ہیں ۔اپنے بیٹے کی کارکردگی پرخوشی کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے بھی خواہش ظاہر کی کہ وہ  ہندوستان اور بیرون ملک ہونے والے سبھی عالمی مقابلوں میں حصہ لےاور ملک کا نام روشن کرے۔تاہم انہوں نے کہا کہ کھیل میں عالمی سطح پر حصہ لینے میں  خطیررقم خرچ ہوتی ہے اورکوشش کے باوجود اسپانسر شپ نہیں ملتی۔ انہوںنے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل حسنین عالمی سطح پر بہت سے مقابلہ میں بھاری فیس کی ادائیگی نہ کرپانے اور اسپانسر شپ نہ مل پانے کے سبب حصہ نہیں لے سکا  تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK