Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی میں پنچایتی انتخابات مؤخر ہونے کا اشارہ، عدالت کے فیصلے کا انتظار

Updated: April 07, 2026, 11:05 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

یوگی حکومت کو انتخابی نتائج کا خوف،پہلےاسمبلی الیکشن کرانے کی قیاس آرائیاں تیز،عدالتی کارروائی اور انتظامی تیاریوں کی سست رفتاری سے خدشات میں اضافہ۔

Uttar Pradesh Chief Minister Yogi Adityanath.Photo:INN
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ- تصویر:آئی این این
اتر پردیش میں پنچایتی انتخابات کے  انعقاد کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال دن بہ دن گہری ہوتی جا رہی ہے اور اب ان انتخابات میں تاخیر کے آثار واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔  سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ریاستی حکومت پہلے اسمبلی انتخابات کرانے کی طرف قدم بڑھا سکتی ہے، جبکہ پنچایت انتخابات کو اس کے بعد تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات، عدالتی کارروائی اور انتظامی تیاریوں کی سست رفتاری نے اس امکان کو مزید تقویت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو پنچایتی انتخابات میں اپنے موافق نتائج آنے کی امید نہیں ہے،اسلئے وہ اسمبلی انتخابات پر اس کے ’برے‘ اثرات نہیں پڑنے دینا چاہتی۔
اتر پردیش میںموجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت فی الحال پنچایتی انتخابات جلد کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ریاستی حکومت مکمل طور پر عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے اور اسی کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، حکومت اس معاملے میں کسی بھی قسم کی جلد بازی سے بچتے ہوئے نہایت محتاط اور حکمت عملی کے تحت قدم بڑھانا چاہتی ہے۔ پنچایتی راج کےکابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر کے حالیہ بیان اور حکومت کی خاموشی سے بھی یہی اشارہ مل رہا ہے کہ پنچایت انتخابات فی الحال مؤخر کئے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی قیاس لگایا جا رہا ہے کہ اب یہ انتخابات ۲۰۲۷ء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ہی کرائے جائیں گے، تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ عدالت کی سماعت اور اس کے احکامات کے بعد ہی لیا جائے گا۔ریاست میں گرام پنچایت، ایریا پنچایت اور ضلع پنچایت کی موجودہ میعادِ کار بالترتیب ۲۶؍ مئی، ۱۹؍ جولائی اور۱۱؍ جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ جبکہ سہ سطحی پنچایت انتخابات کیلئے حتمی ووٹر لسٹ  ۱۵؍ اپریل کو جاری کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انتخابات سے قبل پسماندہ طبقات کیلئے مخصوص کمیشن کی تشکیل اور ریزرویشن کا عمل بھی مکمل کرنا ضروری ہے، جس میں ابھی وقت لگنے کا امکان ہے۔ ریزروریشن کے عمل میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے، کیونکہ پسماندہ طبقات کیلئے مخصوص کمیشن کو مختلف اضلاع میں جا کر آبادی کے اعداد و شمار جمع کرنے ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم اور ریزرویشن کا تناسب طے کیا جاتا ہے، جس کے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
 
 
ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ موجودہ پنچایتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے نئی پنچایتوں کی تشکیل ممکن نہیں ہو پائے گی۔ اعلیٰ سطحی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں موجودہ پردھانوں کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے، اور اگر قانونی رکاوٹ پیش آئی تو ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری بھی کی جا سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمراں جماعت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیاں بھی اس وقت پنچایت انتخابات کیلئے زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہی ہیں، کیونکہ سب کی توجہ ۲۰۲۷ءکے اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے۔
 
 
دوسری جانب، اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی جا چکی ہے۔ عرضی گزار کا موقف ہے کہ جب ووٹر لسٹ اپریل کے وسط میں حتمی ہوگی تو ریزرویشن جیسے پیچیدہ عمل اور انتخابات کرانے کیلئے بہت کم وقت بچے گا، جس سے انتخابات کے مؤخر ہونے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاستی الیکشن کمیشن سے حلف نامہ بھی طلب کیا تھا، جو جمع کرایا جا چکا ہے۔موجودہ صورتحال میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اتر پردیش میں پنچایت انتخابات کے سلسلہ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور سب کی نظریں اب عدالت کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK