• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کی سرحدوں پر ہندوستانیوں کی آمد سے متعلق واقعات میں ۶۶ ؍فیصد کمی

Updated: November 08, 2026, 9:57 PM IST | New Delhi

امریکہ کی سرحدی حکام کے ساتھ ہندوستانی شہریوں کے پیش آنے والے واقعات کی تعداد میں گزشتہ دو مالی سال کے دوران نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال ۲۰۲۶ء میں امریکی سرحدی حکام نے ہندوستانی شہریوں سے متعلق ۳۰ ؍ہزار۵۲۸؍ واقعات درج کیے۔

Border.Photo:INN
سرحد۔ تصویر:آئی این این

امریکہ کی سرحدی حکام کے ساتھ ہندوستانی شہریوں کے پیش آنے والے واقعات کی تعداد میں گزشتہ دو مالی سال کے دوران نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن   کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال ۲۰۲۶ء میں امریکی سرحدی حکام نے ہندوستانی شہریوں سے متعلق ۳۰ ؍ہزار ۵۲۸ ؍واقعات درج کیے، جبکہ مالی سال ۲۰۲۴ ءمیں یہ تعداد ۹۰ ؍ہزار ۴۱۵ ؍تھی۔ اس طرح دو سال کے عرصے میں ایسے واقعات میں تقریباً ۶۶ ؍فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکہ میں غیر قانونی یا غیر مجاز طریقوں سے داخل ہونے کی کوششوں اور سرحدی امیگریشن جانچ کے حوالے سے اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سری دیوی نے ان کی ناک کی سرجری کے بعد اداکاری کی صلاحیت تسلیم کی: جھانوی کپور

رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۰۲۴ ءمیں ہندوستانی شہریوں سے متعلق سرحدی واقعات کی تعداد ۹۰ ؍ہزار ۴۱۵ ؍رہی تھی، جو مالی سال ۲۰۲۵ ءمیں گھٹ کر ۳۴؍ ہزار ۱۴۶ ؍ہوگئی۔ مالی سال ۲۰۲۶ ءمیں مزید کمی کے بعد یہ تعداد ۳۰ ؍ہزار ۵۲۸ ؍تک پہنچ گئی۔ اس طرح صرف ایک سال میں بھی تقریباً ۱۰ء۶ ؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال ۲۰۲۶ ءسے مراد اکتوبر ۲۰۲۵ء سے ستمبر ۲۰۲۶ ءتک کا عرصہ ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں داخلے کے خواہش مند ہندوستانی شہریوں سے متعلق سرحدی کارروائیوں اور جانچ کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 
واقعات کی تعداد میں کمی کے باوجود ہندوستانی شہری مالی سال ۲۰۲۶ ءمیں امریکی سرحدی حکام کے ریکارڈ میں تیسرے نمبر پر رہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو کے شہریوں سے متعلق ۱؍لاکھ ۲۳؍ہزار ۳۹ ؍ واقعات درج کیے گئے، جبکہ کنیڈا کے شہریوں کی تعداد ۳۷ ؍ہزار ۷۰۰؍ رہی۔ ہندوستانی شہریوں کی تعداد ۳۰ ؍ہزار ۵۲۸ ؍تھی، جب کہ چین کے شہریوں سے متعلق ۲۹ ؍ہزار ۸۱۸ ؍واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس طرح ہندوستان، امریکہ کی سرحدوں پر پیش آنے والے ایسے واقعات کے اعتبار سے اہم ممالک میں شامل رہا۔ 
ہندوستانی شہریوں سے متعلق واقعات میں کمی ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔ امریکی سرحدی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق تمام ممالک کے شہریوں سے متعلق واقعات کی مجموعی تعداد مالی سال ۲۰۲۶ ءمیں ۳ ؍لاکھ ۸۲ ؍ہزار ۴۹۰ ؍رہی جبکہ مالی سال ۲۰۲۵ء میں یہ تعداد ۶ ؍لاکھ ۹۱ ؍ہزار ۹۰۶ ؍تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران مجموعی واقعات میں تقریباً ۴۴ء۷ فیصد کمی درج کی گئی۔ مالی سال ۲۰۲۴ ءمیں یہ تعداد تقریباً ۲۹ ؍لاکھ اور مالی سال ۲۰۲۳ء میں ۳۲ ؍لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں سرحدی آمد و رفت اور امیگریشن سے متعلق حکومتی کارروائیوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:پیرس ماسٹرز کے فائنل میں الکاراز اور شیلٹن کے درمیان خطابی جنگ

ماہرین کے مطابق ہندوستانی شہریوں سے متعلق سرحدی واقعات میں کمی کی ایک اہم وجہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن قوانین پر سختی اور غیر مجاز داخلے کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن روکنے، سرحدی نگرانی سخت کرنے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی ملک بدری کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ پناہ کی درخواستوں اور سرحد پر داخلے کے ضوابط میں سختی نے بھی امریکہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھائی ہیں۔ تاہم صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستانیوں کی امریکہ جانے کی کوششوں میں بھی اسی تناسب سے کمی ہوئی ہے، کیونکہ سرحدی کارروائیوں کی تعداد پر حکومتی پالیسی، نگرانی اور نقل مکانی کے راستوں میں تبدیلی جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ 
 رپورٹس کے مطابق ہندوستان سے امریکہ غیر قانونی طریقے سے پہنچنے کی کوشش کرنے والوں میں گجرات، پنجاب اور آندھرا پردیش کے شہری بھی شامل ہیں۔ گجرات کے شمالی اور وسطی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ امریکہ پہنچنے کے لیے مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے خطرناک غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں، جنہیں عام طور پر ’ڈنکی روٹ‘ کہا جاتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایسے سفر کے لیے ایجنٹوں کو ۸۰ ؍لاکھ سے ایک کروڑ ۲۵ ؍لاکھ روپے تک ادا کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس طریقۂ سفر میں دھوکہ دہی، انسانی اسمگلنگ، بھاری مالی نقصان، گرفتاری اور ملک بدری کے علاوہ جان جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK