دہلی میں دیوالی کی صبح اے کیو آئی ۳۸۴؍ پہنچا، جبکہ ۱۱؍ مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر فضائی آلودگی درج کی گئی، جہاں اے کیو آئی ۴۰۰؍ سے تجاوز کرگیا، جبکہ ماہرین نے تہوار کے بعد آلودگی کے مزید بگڑنے کی وارننگ دی ہے۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 9:56 PM IST | New Delhi
دہلی میں دیوالی کی صبح اے کیو آئی ۳۸۴؍ پہنچا، جبکہ ۱۱؍ مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر فضائی آلودگی درج کی گئی، جہاں اے کیو آئی ۴۰۰؍ سے تجاوز کرگیا، جبکہ ماہرین نے تہوار کے بعد آلودگی کے مزید بگڑنے کی وارننگ دی ہے۔
دیوالی کی صبح دہلی زہریلی دھند کے ساتھ جاگا، سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کے اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) ۳۸۴؍تھا، جو ’’شدید‘‘ زمرے سے تھوڑا کم ہے۔صبح۶؍ بجے کی اپ ڈیٹ سے ظاہر ہوا کہ کئی انفرادی اسٹیشنوں پر صورتحال بدتر تھی۔ درج ۲۳؍ مانیٹرنگ اسٹیشنوں میں سے گیارہ میں۴۰۰؍ سے تجاوز کرگیا، جو ’’شدید‘‘ فضائی آلودگی کی حد ہے۔ باقی۱۲؍’’بہت خراب‘‘۳۰۱؍ سے ۴۰۰؍ کے زمرے میں تھے۔پنجابی باغ نے شہر کی سب سے زیادہ ریڈنگ۴۵۰؍درج کی، اس کے بعد آر کے پورم۴۴۹؍ اور آئی آئی ٹی دہلی ۴۴۶؍ پر رہے۔ چاندنی چوک اور دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس دونوں نے۴۲۳؍، پوسا ۴۱۵؍، براری کراسنگ۴۱۱؍ اور این ایس یو ٹی جعفر پور۴۰۹؍ درج کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں شہری آزادی کی صورت حال ’انتہائی شرمناک‘: ہائی کورٹ
بعد ازاں فضائی آلودگی تہوار سے پہلے شروع ہوئی۔سنیچر کی ۲۴؍ گھنٹے کے اوسط ۳۶۹؍ نے اسے ایک دہائی میں دہلی کی سب سے آلودہ دیوالی کی شام بنا دیا، حالانکہ یہ جمعہ کے۳۸۲؍ سے تھوڑا کم تھا۔ ریڈنگ اتوار کو صبح۷؍ بجے تک، دن کے زیادہ تر پٹاخوں کے استعمال سے پہلے۳۸۴؍ تک پہنچ گئی۔ ہوا کا یہ بگاڑ، گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان (GRAP) کے مرحلہ تین کے باوجود آیا، جسے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے جمعہ کو تہوار سے قبل احتیاطی تدبیر کے طور پر دہلی-این سی آر میں نافذ کیا تھا۔ پابندیوں نے غیر ضروری تعمیرات اور انہدام کو روک دیا، اسٹون کرشرز اور کان کنی کو محدود کیا۔ انہوں نے بی ایس-۳؍ پیٹرول اور بی ایس-۴؍ڈیزل چار پہیوں والی گاڑیوں پر پابندی لگائی، اس کے علاوہ مرحلہ ایک اور۲؍ کے تحت پہلے سے نافذ اقدامات بھی شامل تھے۔
مزید برآں پرائمری کلاسیز کو بھی آن لائن منتقل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود، AQI سنیچر کی صبح۳۶۴؍ پر تھا اور اس کے بعد سے مزید چڑھ گیا ہے۔ دہلی حکومت کے ڈیسیژن سپورٹ سسٹم کے مطابق، جمعہ کو ٹرانسپورٹ سیکٹر آلودگی کا سب سے بڑا حصہ دار تھا جس کا حصہ۲۱؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ابھیشیک کے مکان پر حملہ، ممتا آگ بگولہ
واضح رہے کہ تاریخی رجحانات بتاتے ہیں کہ حالات مزید بگڑنے کا امکان ہے۔ پیر کئی سالوں میں دیوالی کے بعد کا سب سے آلودہ دن ہو سکتا ہے، کیونکہ پڑوسی ریاستوں سے پرالی کا دھواں اور پرسکون ہوائیں آلودگیوں کو زمین کے قریب پھنسا دیتی ہیں۔ جمعہ کو، چھ ریاستوں میں فصل کی باقیات جلانے کے۵۸۹؍ واقعات درج ہوئے: پنجاب۳۵۷؍، مدھیہ پردیش۱۳۹؍، راجستھان۵۸؍، اتر پردیش۲۳؍، ہریانہ۹؍، اور اتراکھنڈ ۳؍۔