جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ہولوکاسٹ کی ذمہ داری کو مسترد کرنے والے تارکین وطن کو جرمنی چھوڑنے کو کہا، ساتھ ہی انہوں نے برلن میں یہودی کھلاڑیوں کے اجتماع کے دوران سام دشمنی پر خدشات کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 10:06 PM IST | Berlin
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ہولوکاسٹ کی ذمہ داری کو مسترد کرنے والے تارکین وطن کو جرمنی چھوڑنے کو کہا، ساتھ ہی انہوں نے برلن میں یہودی کھلاڑیوں کے اجتماع کے دوران سام دشمنی پر خدشات کا اظہار کیا۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے برلن میں یہودی کھلاڑیوں کے اجتماع کے دوران سام دشمنی پر خدشات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو ہولوکاسٹ کے لیے جرمنی کی تاریخی ذمہ داری کو تسلیم کرنا چاہیے یا ملک چھوڑ دینا چاہیے۔اسرائیل میں ہر چار سال بعد منعقد ہونے والے بین الاقوامی یہودی کھیلوں کی تقریب مکابیہ کے شرکاء کے لیے ایک استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے، مرز نے کہا کہ نازی مظالم کے لیے جرمنی کی ذمہ داری ملک میں رہنے والے ہر شخص پر لاگو ہوتی ہے، بشمول نئے آنے والوں پر۔مرز نے کہا، ’’ہمارے ملک کی یہ تاریخی ذمہ داری ان لوگوں پر بھی اتنی ہی لاگو ہوتی ہے جو اسلامی ممالک سے یہاں جرمنی آتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اور جو کوئی اس پر عمل نہیں کرے گا اسے ہمارا ملک چھوڑنا ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: حکیم جیفریز کی ایوان کے اسپیکر کے طور پر مخالف درخواست پر دس لاکھ دستخط
واضح رہے کہ ان کا تبصرہ اس وقت آیا جب تقریب میں شرکت کرنے والے ایک باسکٹ بال کوچ نے یہ کہتے ہوئے کہ کچھ کو عوام میں اسٹار آف ڈیوڈ والی سرخ مکابی ٹریننگ جیکٹس پہننے کے دوران حملے کا خوف تھا،یہودی کھلاڑیوں کی حفاظت کے تعلق سے خدشات کا اظہار کیا ۔تاہم مرز نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی ۴۰؍ویں سالگرہ پر پارلیمنٹ کو دی گئی سابق جرمن صدر رچرڈ وان وائسزیکر کی ۱۹۸۵ءکی تاریخی تقریر کو یاد کرتے ہوئے جواب دیا۔خطاب میں، وان وائسزیکر نے نازی حکمرانی کے تحت کیے گئے جرائم کی ذمہ داری اور بعد کی نسلوں کی اپنی تاریخی وراثت کا سامنا کرنے کی ذمہ داری کے درمیان فرق کیا۔وان وائسزیکر نے کہا، ’’نوجوان اس وقت جو ہوا اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ لیکن وہ اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ تاریخ میں اس کا کیا بنتا ہے۔‘‘مرز نے اس بیان کو ایک پائیدار اصول قرار دیا جو جرمن معاشرے کی رہنمائی کرے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا، ’’اور یہ مجموعی طور پر جرمن معاشرے پر عائدہوتا ہے۔ اور میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ کروں گا: یہ جرمنی آنے والے تارکین وطن پر بھی عائد ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: سیکڑوں افراد کا نئی حکومت سازی میں عرب جماعتوں کو شامل کرنے کا مطالبہ
واضح رہے کہ مرز کے تبصرے جرمنی میں مسلمانوں کے تئیں بڑھتی ہوئی دشمنی کے پس منظر میں بھی آئے ہیں، جہاں حقوق کی تنظیموں نے کمیونٹی کو نشانہ بنانے والے بڑھتے ہوئے امتیاز، دھمکیوں اور تشدد کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔الائنس اگینسٹ اسلاموفوبیا اینڈ اینٹی مسلم ہیٹ (CLAIM) کی طرف سے جون میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، جرمنی نے۲۰۲۵ء میں ۴۰۹۶؍ مسلم مخالف واقعات درج کیے، جو پچھلے سال کے۳۰۸۰؍ سے کہیں زیادہ ہیں، یہ تقریباً۳۳؍ فیصد اضافہ ہے۔