• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیپ وردے کے گول کیپر ووزینا کی زندگی مشکلات کا شکار، شہرت نے رازداری چھین لی

Updated: November 08, 2026, 9:57 PM IST | New York

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں اپنی شاندار گول کیپنگ سے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی توجہ حاصل کرنے والے افریقی ملک کیپ وردے کے تجربہ کار گول کیپر ووزینا کے لیے عالمی شہرت اب ایک نئی آزمائش بن گئی ہے۔

Vozinha.Photo:X
ووزنیا۔ تصویر:ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں اپنی شاندار گول کیپنگ سے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی توجہ حاصل کرنے والے افریقی ملک کیپ وردے کے تجربہ کار گول کیپر ووزینا  کے لیے عالمی شہرت اب ایک نئی آزمائش بن گئی ہے۔ اسپین جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف غیر معمولی کارکردگی دکھا کر راتوں رات عالمی سطح پر مقبول ہونے والے ۴۰ ؍سالہ ووزینا اب اپنی نجی زندگی، نئے ملک میں قیام اور کلب فٹ بال میں جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی شہرت نے ان کی زندگی سے وہ سکون اور اطمینان چھین لیا ہے جو انہیں پہلے حاصل تھا۔ ایک وقت تھا جب انہیں فٹ بال کی دنیا میں بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن اب ان کے مداحوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے اور عام زندگی گزارنا بھی ان کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ 
ووزینا کا اصل نام جوزیمار جوزے ایوورا ڈیاس   ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ ۲۰۲۶ ءمیں کیپ وردے کی جانب سے کھیلتے ہوئے اسپین کے خلاف اپنی ٹیم کو ۰-۰ سے ڈرا دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس مقابلے میں انہوں نے کئی شاندار بچاؤ کیے اور اسپین کے خطرناک حملوں کو ناکام بنایا۔ اس کارکردگی کے بعد دنیا بھر کے فٹ بال شائقین نے انہیں سراہا اور سوشل میڈیا پر ان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ میچ سے پہلے انسٹاگرام پر ان کے تقریباً ۵۰ ؍ہزار فالوورز تھے، لیکن اسپین کے خلاف مقابلے کے بعد یہ تعداد تیزی سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی۔ نومبر ۲۰۲۶ء تک ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً ۲ ؍کروڑ ۷۵ ؍لاکھ بتائی جارہی ہے۔ 
کیپ وردے نے پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ ٹیم نے نہ صرف عالمی کپ میں اسپین کے خلاف ڈرا حاصل کیا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے کے آخری ۳۲ ؍کے مقابلے میں لیونل میسی کی قیادت والی ارجنٹائنا کی ٹیم کو بھی سخت مقابلہ دیا۔ یہ میچ اضافی وقت تک پہنچا، جہاں کیپ وردے کو ۲۔۳؍گول  سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی، لیکن ووزینا کی کارکردگی نے انہیں عالمی فٹ بال کے نمایاں چہروں میں شامل کردیا۔ ان کی اس کامیابی کے باعث انہیں یاشین ٹرافی کے لیے بھی نامزد کیا گیا، جو بیلن ڈی اور کی تقریب میں بہترین گول کیپر کو دی جانے والی اعزازاتی فہرست ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:راولپنڈی ٹیسٹ: بابر اعظم کی نئی شروعات پر نظریں

ووزینا کے مطابق عالمی شہرت نے ان کی نجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب جب بھی وہ کسی ریسٹورنٹ، بازار یا عوامی مقام پر جاتے ہیں تو لوگ ان کے ساتھ تصاویر بنوانے، آٹوگراف لینے یا ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں پہلے جیسی رازداری میسر نہیں رہی اور بعض اوقات لوگوں کا مسلسل توجہ دینا پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ برطانوی اخبار ’دی آبزرور‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا سکون اور اطمینان کھودیا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں، لیکن وہ شہرت کے منفی پہلوؤں کو نہیں دیکھتے۔ اگر انہیں اپنی موجودہ زندگی اور ورلڈ کپ سے پہلے کی زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ اپنی پرانی پرسکون زندگی کو ترجیح دیں گے۔ 
 ووزینا کی شہرت کا اثر صرف ان کی اپنی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کے خاندان کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان کے مطابق کیپ وردے میں ان کی والدہ کے گھر پر بھی روزانہ مداح پہنچنے لگے ہیں تاکہ ان سے ملاقات کرسکیں یا تصاویر بنوا سکیں۔ ووزینا کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر پریشان کن ہے، کیونکہ وہ اپنے خاندان سے دور چلی میں مقیم ہیں اور وہاں رہتے ہوئے اپنے اہل خانہ کی نجی زندگی کی حفاظت کرنا ان کے لیے آسان نہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران ان کی والدہ کو ویزا نہ ملنے کا معاملہ بھی خبروں میں آیا تھا، جس پر امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے ویزا فیس معاف کرانے میں مدد کا اعلان کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:اگر کسی تارکِ وطن کے بچے کو موقع دیا جائے تو وہ کیا کچھ کرسکتا ہے:اسکیپٹا

ورلڈ کپ کے بعد ووزینا نے جولائی ۲۰۲۶ میں چلی کے معروف فٹ بال کلب کولو کولو   میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں کلب کے اسٹیڈیم میں ہزاروں شائقین کے سامنے پیش کیا گیا اور ان کی آمد کا شاندار استقبال ہوا۔ ایڈیڈاس، پیپسی اور ریڈ بل جیسے عالمی برانڈز نے بھی انہیں تشہیری مہمات کا حصہ بنایا، لیکن میدان میں ان کے لیے حالات اتنے سازگار ثابت نہیں ہوئے۔ نومبر کے آغاز تک وہ ممکنہ ۱۴ مقابلوں میں سے صرف پانچ میچ کھیل سکے تھے۔ کلب میں ان کی جگہ مستقل نہیں ہوپائی اور انہیں کئی مقابلوں میں متبادل کھلاڑی کے طور پر بیٹھنا پڑا۔ 
 ووزینا نے کولو کولو کے ساتھ چھ ماہ کا معاہدہ کیا ہے، جس میں ایک سال کی توسیع کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس کے لیے انہیں مقررہ تعداد میں کھیلنے کے منٹ پورے کرنا ہوں گے۔ چلی کے ذرائع ابلاغ میں ان کے ۲۰۲۷ ءتک کلب میں برقرار رہنے کے امکانات پر بھی بحث ہورہی ہے۔ چلی کے سابق مشہور گول کیپر کلاڈیو براوو نے بھی ان کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ان کی کھیل کے دوران تال میل اور ہم آہنگی سے متعلق غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ووزینا نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ کولو کولو کے ساتھ اپنے مستقبل کے بارے میں فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے اور ان کی توجہ فی الحال ٹیم کے اہم مقابلوں پر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK