• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روہت شیٹی فائرنگ کیس میں حملہ آور سمیت۷؍ افرادگرفتار

Updated: February 17, 2026, 4:04 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ملزمین کو ہریانہ اور آگرہ سے گرفتار کیا گیا۔ مقامی عدالت نے پولیس تحویل میں بھیج دیا۔ گرفتار ملزمین کی تعداد ۱۲؍ ہوگئی۔

Rohit Shetty.Photo:INN
روہت شیٹی۔ تصویر:آئی این این

 فلم ساز روہت شیٹی کی ممبئی میں واقع رہائش گاہ پر فائرنگ کرنے کے معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے حملہ آور سمیت ۷؍ ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کی گرفتاری پنجاب کے ہریانہ اور یو پی کے آگرہ سے عمل میں آئی ہے۔اس کے ساتھ ہی اس کیس میں گرفتار ملزمین کی تعداد ۱۲؍ ہوگئی ہے۔کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی شاخ کے مطابق ان سب کو جدید تکنیک کے استعمال اور مخبروں اور ہریانہ اور آگرہ کی ’ایس ٹی ایف‘ (اسپیشل ٹاسک فورس) کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
ہریانہ سے جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں دیپک شرما بھی شامل ہے جس کے تعلق سے شبہ ہے کہ اسی نے روہت شیٹی کی رہائش گاہ پر ۵؍ گولیاں چلائی تھیں۔ دیپک کو ہریانہ کے بہادر گڑھ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دیپک کو فائرنگ کرنے کیلئے ۵۰؍ ہزار روپے دیئے گئے تھے اور واردات انجام دینے کے بعد مزید رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے تعلق سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ نوئیڈا کا رہنے والا ہے اور بہادر گڑھ میں روپوش تھا۔ مزید یہ کہ وہ لارینس بشنوئی گینگ کے ممبران سے براہِ راست رابطہ میں تھا اور مبینہ طور پر اسے اس کیس کے کلیدی ملزمین ہری باکسر اور آرزو بشنوئی نے گولی چلانے کی ہدایت دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:’’دُھرندھر۲‘‘ کی شوٹنگ میں قواعد کی خلاف ورزی پر بی ایم سی سخت

اطلاع کے مطابق ۷؍ افراد کو اتوارکی رات کو حراست میں لیا گیا تھا اور پیر کو ممبئی لانے کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے انہیں ۲۵؍ فروری تک پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔واضح رہے کہ پولیس نے پہلے ہی اس کیس پر ’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘ (مکوکا) عائد کردیا ہے اور پہلے گرفتار کئے گئے ۵؍ ملزمین ۱۷؍ فروری تک پولیس تحویل میں ہیں۔یاد رہے کہ ۳۱؍ جنوری اور یکم فروری کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے روہت شیٹی کی رہائش گاہ پر باہر سے فائرنگ کی تھی اور فرار ہوگئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:جنیوا میں ایران سے سمجھداری کی امید: ڈونالڈوٹرمپ

اس فائرنگ کے بعد لارینس بشنوئی گینگ کے ممبران شبھم لونکر اور آرزو بشنوئی نے فیس بُک پر ہندی میں پوسٹ لکھ کر اس فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ شبھم لونکر باندرہ میں رہنے والے این سی پی کے سینئر لیڈر بابا صدیقی کے قتل کیس میں پولیس کو مطلوب ہے۔ بابا صدیقی بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے قریبی دوست تھے اور خود سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کی ذمہ داری بھی بشنوئی گینگ نے قبول کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK