Updated: May 03, 2026, 9:09 PM IST
| Mumbai
۷۰۔۱۰۔۱۰۔۱۰؍ اصول ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے ہر مہینے کی آمدنی کو صحیح سمت دی جا سکتی ہے۔ اس اصول میں آمدنی کو چار حصوں میں تقسیم کر کے اخراجات، بچت اور سرمایہ کاری کے درمیان توازن قائم کیا جاتا ہے۔ اس سے مالی قلت کم ہوتی ہے اور مالی کنٹرول بہتر ہوتا ہے۔ اگر اس اصول پر مسلسل عمل کیا جائے تو آہستہ آہستہ مضبوط بچت بنتی ہے اور سرمایہ کاری سے دولت میں اضافہ شروع ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر تنخواہ دار اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے ایک عملی اور آسان مالی منصوبہ ہے۔
پیسے کی بچت۔ تصویر:آئی این این
مہینے کے آخر میں پیسے ختم ہو جانا آج کل ایک عام مسئلہ بن گیا ہے۔ تنخواہ آتے ہی خرچ شروع ہو جاتے ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ پیسہ کہاں گیا۔ اس کی وجہ اکثر بغیر منصوبہ بندی کے خرچ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک سادہ اور واضح طریقہ اپنانا ضروری ہو جاتا ہے جس سے ہر روپے کا حساب رہے اور بچت بھی ہو۔۷۰۔۱۰۔۱۰۔۱۰؍ اصول اسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔یہ ایک سیدھا اور آسان فارمولا ہے جس میں آپ کی آمدنی کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس سے ضروری اخراجات، بچت، سرمایہ کاری اور طرزِ زندگی سب کچھ ایک ساتھ منظم ہو جاتا ہے اور پیسوں کے بارے میں غیر یقینی کم ہو جاتی ہے۔
۷۰۔۱۰۔۱۰۔۱۰؍اصول کیا ہے؟
اس اصول کے تحت آپ کی کل آمدنی کا۷۰؍ فیصد حصہ ضروری اخراجات کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس میں کرایہ یا ای ایم آئی ، راشن، بجلی پانی، ٹرانسپورٹ، اسکول فیس اور ادویات جیسے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ یہ حصہ بنیادی زندگی گزارنے کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اس کی صحیح منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اس کے بعد ۱۰؍فیصد حصہ بچت کے لیے رکھا جاتا ہے۔ یہ رقم ایمرجنسی فنڈ بنانے میں کام آتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہی بچت آپ کو اچانک آنے والے اخراجات سے بچاتی ہے اور قرض لینے کی ضرورت کم کرتی ہے۔
اگلا ۱۰؍ فیصد سرمایہ کاری کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں آپ ایس آئی پی، میوچوئل فنڈ،پی پی ایف یا دیگر سرمایہ کاری کے آپشنز منتخب کر سکتے ہیں۔ یہ حصہ طویل مدت میں دولت بنانے میں مدد دیتا ہے اور آپ کی مالی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ آخری۱۰؍ فیصد حصہ خود پر خرچ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں گھومنا پھرنا، شاپنگ، تفریح یا اپنی پسند کی چیزوں پر خرچ شامل ہے۔ اس سے زندگی میں توازن برقرار رہتا ہے اور آپ کو مکمل طور پر خرچ روکنے کی مجبوری نہیں ہوتی۔
یہ اصول کیسے کام کرتا ہے؟
اس اصول کی سب سے بڑی خاصیت اس کا توازن ہے۔ اس میں ہر چیز کے لیے پہلے سے حصہ مقرر ہوتا ہے جس سے زیادہ خرچ کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ جب آپ تنخواہ ملتے ہی پیسے کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں تو بعد میں خرچ خود بخود قابو میں آ جاتا ہے۔وقت کے ساتھ یہ عادت بن جاتی ہے۔ چند مہینوں بعد بچت بڑھنے لگتی ہے اور سرمایہ کاری سے منافع نظر آنے لگتا ہے۔ اس سے نہ صرف مالی دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ مالی اعتماد بھی بڑھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئےَ:ہندوستان شکست سے دوچار، فرانس اور چین کے درمیان فائنل مقابلہ ہوگا
کن لوگوں کے لیے سب سے بہتر؟
یہ اصول خاص طور پر تنخواہ دار اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے بہت مفید ہے۔ جن کی آمدنی مقرر ہوتی ہے، ان کے لیے یہ طریقہ سب سے زیادہ کارآمد ہے۔ اس سے ہر مہینے کا بجٹ پہلے سے طے ہو جاتا ہے اور غیر ضروری اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی کی آمدنی کم ہے یا اخراجات زیادہ ہیں تو وہ اس اصول میں تھوڑی تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔ جیسے ۷۰؍ فیصد کی جگہ ۷۵؍یا ۸۰؍ فیصد ضروریات کے لیے رکھ سکتے ہیں۔ لیکن بچت اور سرمایہ کاری کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:پتی پتنی اور وہ دو ٹریلر: آیوشمان، سارہ، وامیکا اور رکول کی الجھی ہوئی محبت کی کہانی
کیسے شروع کریں؟
شروعات کے لیے سب سے پہلے اپنی کل آمدنی واضح طور پر لکھیں۔ پھر اسے چار حصوں میں تقسیم کریں اور ہر حصے کے لیے الگ بجٹ مقرر کریں۔ کوشش کریں کہ تنخواہ آتے ہی بچت اور سرمایہ کاری کی رقم الگ کر دیں تاکہ وہ خرچ نہ ہو۔ آہستہ آہستہ یہ عمل آسان ہو جاتا ہے۔ کچھ ہی وقت میں آپ دیکھیں گے کہ پیسہ بچ بھی رہا ہے اور صحیح جگہ لگ بھی رہا ہے۔ یہی چھوٹی سی تبدیلی آگے چل کر بڑی مالی مضبوطی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔