ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں دبی ہیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا گیا، موجودہ رفتار سے صفائی میں برسوں لگ سکتے ہیں جبکہ خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 10:05 PM IST | Gaza
ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں دبی ہیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا گیا، موجودہ رفتار سے صفائی میں برسوں لگ سکتے ہیں جبکہ خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔
ایک اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق، جس نے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کا حوالہ دیا، غزہ کی پٹی میں تقریباً ۸؍ ہزارفلسطینی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جہاں اسرائیل کی دو سالہ نسل کشانہ جنگ کے بعد ایک فیصدسے بھی کم ملبہ ہٹایا گیا ہے۔اخبار ہاریٹز نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے ایک گمنام اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ملبہ ہٹانے کی سست رفتار کا مطلب ہے کہ یہ عمل سات سال تک جاری رہ سکتا ہے۔اہلکار نے مزید بتایا کہ پوری غزہ پٹی میں تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے ہزاروں لاشیں ابھی بھی دفن ہیں، جبکہ خاندان اپنے رشتہ داروں کو نکالنے اور دفنانے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تشخیص فلسطینی سول ڈیفنس حکام کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جنہوں نے آلات اور صلاحیت میں شدید کمی کے بارے میں خبردار کیا ہے جس سے تباہی کے وسیع علاقوں کو صاف کرنے کی کوششیں سست ہو گئی ہیں۔تاہم اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، ان خلاف ورزیوں میں ۸۲۸؍فلسطینی شہید اور۳۲۴۲؍ زخمی ہوئے ہیں۔یہ جنگ بندی غزہ پر اسرائیل کی دو سالہ جارحیت کو ختم کرنے کے لیے تھی، جس میں۷۲۰۰۰؍ سے زائد افراد شہید اور۱۷۲۰۰۰؍ زخمی ہوئے تھے، ساتھ ہی ۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا تھا۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ تقریباً۷۰؍ بلین ڈالر ہے۔