سب سے زیادہ خود کشی کے واقعات بیڑ میں پیش آئے جہاں ۲۴؍ کسانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، اورنگ آباد دوسرے نمبر پر۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 8:14 AM IST | Beed
سب سے زیادہ خود کشی کے واقعات بیڑ میں پیش آئے جہاں ۲۴؍ کسانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، اورنگ آباد دوسرے نمبر پر۔
مراٹھواڑہ میں کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ رکنے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حال ہی میں بارش اور سیلاب سے پریشان کسانوں نے بڑے پیمانے پر یہاں خود کشی کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے پہلے مہینے یعنی جنوری ۲۰۲۶ء میں مراٹھواڑہ کے الگ الگ اضلاع میں مجموعی طور پر ۷۶؍ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ ان میں سے ۲۴؍ واقعات صرف بیڑ ضلع میں پیش آئے ہیں۔ ایک ماہ میں کسانوں کی تعداد سامنے آنے کے بعد ہر کوئی اپنے غم کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ ا عداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت نے کسانوں کی خودکشی کو روکنے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔
یاد رہے مہاراشٹر میں کسان گزشتہ ۲؍ یا ۳؍ سال سے مسلسل بے موسم برسات کے سبب پریشان ہیں۔ یا تو فصلیں تباہ ہو رہی ہیں یا کھیتی (زمین) کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے قرض میں ڈوبے ہوئے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے سال مراٹھواڑہ میں ایک ہزار ۱۲۹؍ کسانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ مراٹھواڑہ میں کے کسانوں کو ہمیشہ فطرت کی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خشک سالی، پانی کی کمی اور کبھی شدید بارشوں کی وجہ سے یہاں زراعت ناقابل اعتبار ہو چکی ہے۔ مہنگے بیج لگانے اور دینے کے بعد بھی آمدنی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سامان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ نتیجتاًپوری ریاست کو خوراک فراہم کرنے والے اس طبقے نے خود کو معاشی طور پر خود کو ٹوٹا ہوا پایا ہے۔ یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس طرح اور بھی وجوہات کی بنا پر کئی کسان خودکشی کر چکے ہیں۔
جنوری ۲۰۲۵ء سے دسمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان ، مراٹھواڑہ میں مجموعی طور پر ایک ہزار ۱۲۹؍ کسانوں نے خودکشی کی۔ نئے سال کے صرف ایک ماہ میں ۷۶؍ کسانوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا اور خودکشی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ان میں سب سے زیادہ، ۲۴؍خود کشیاں بیڑ ضلع میں ہوئی ہیں، اس کے بعد اورنگ آباد ضلع میں ۲۰؍ کسانوں کی خودکشی ہوئی ہے۔ جبکہ ناندیڑ میں بھی ۱۱؍ کسان نے اپنا خاتمہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھئے: حکام کو ذات پات کا نظام ختم کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے: مدراس ہائی کورٹ
یاد رہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں بے موسم برسات کے سبب مراٹھواڑہ کے کئی اضلاع میں سیلاب کی صورتحال تھی جس میں بے شمار کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ حالانکہ حکومت نے ان متاثرہ کسانوں کی امداد کیلئے پیکیج کا اعلان بھی کیا تھا لیکن کسانوں کی مشکل کم نہیں ہوئی۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار ( اب آنجہانی) نے مراٹھواڑہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا تھا اور کسانوں سے امداد کے وعدے کئے تھے۔ امداد جاری بھی کی گئی۔ ادھو ٹھاکرے اور دیگر اپوزیشن لیڈران نے بھی ان علاقوں میں جا کر کسانوں کی خبر گیری کی تھی حکومت کی جانب سے امداد نہ ملنے پر حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن اگر خود کشی کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ساری باتوں سے کسانوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔
اضلاع کے اعتبار سے کسانوں کی خود کشی:
( یکم تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء) اورنگ آباد : ۲۰؍ جالنہ: ۶؍پربھنی:۲؍ ہنگولی: ۵؍، ناندیڑ: ۱۱؍ بیڑ: ۲۴؍ لاتور: ۳؍، عثمان آباد : ۵؍، کل : ۷۶؍
گزشتہ سال مراٹھواڑہ میں مجموعی طور پر ایک ۱۲۹؍ کسانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔ یہ سب ان حالات میں ہوا ہے جب حکومت کسانوں کیلئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ اور اپوزیشن ان کی مدد کیلئے آواز اٹھا رہا ہے۔