• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال: ایس آئی آر میں عدالتی افسران کی تقرری کا حکم

Updated: February 21, 2026, 8:52 AM IST | Kolkata

سپریم کورٹ نےممتا حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان الزام تراشیوں  پر ناراضگی ظاہر کی، کلکتہ ہائیکورٹ کوجمع کرائے گئے دستاویزکی تصدیق کیلئے موجودہ جوڈیشل افسران کیساتھ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا ڈسٹرکٹ جج رینک کے سابق جوڈیشل افسران کو اس کیلئے مامور کرنے کا حکم دیا ۔

Photo of voter verification by SIR in Bengal. Photo: INN
بنگال میں ایس آئی آر کےد وران ووٹرویریفکیشن کی فوٹو۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں  ووٹرلسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم میں  ریٹائرڈ ججوں سمیت عدالتی افسران کی تعیناتی کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باغچی اور جسٹس وپن پنچولی کی بنچ نےاس معاملے میں  سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان تعاون کی واضح کمی ہے۔ بنچ نے اس پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کاکھیل چل رہاہے اور یہ دونوں کے درمیان اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مراٹھواڑہ میں ایک ماہ میں ۷۶؍ کسانوں کی خود کشی

بنچ نے مزید کہا کہ ایس آئی آر کا یہ عمل اب ان افراد کے دعوؤں اور اعتراضات کے مرحلے پر پھنس گیا جنہیں منطقی تضاد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ زیادہ تر افراد جن کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان دعوؤں کا فیصلہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرزکے ذریعے نیم عدالتی عمل میں کیا جانا ضروری ہے۔ بنچ نے مزید کہا کہ اس کے پاس ایس آئی آر کے عمل میں  ریاستی عدلیہ اور ریٹائرڈ جوڈیشل افسران کو شامل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ بنچ نے اس کے بعد حکم دیا کہ جمع کرائے گئے دستاویزات کی صداقت اور اس کے نتیجے میں ووٹر لسٹ میں شمولیت یا اخراج کے فیصلے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے، ہمارے پاس کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرنے کے علاوہ کوئی اورمتبادل باقی نہیں بچا ہے کہ وہ کچھ حاضر سروس جوڈیشل افسران کے ساتھ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا ڈسٹرکٹ جج کے رینک کے کچھ سابق جوڈیشل افسران کو بھی اس کام پر مامور کریں  جو کہ منطقی تضاد کی فہرست میں مدد کرسکیں۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یہ ہدایت عام عدالتی مقدمات کی سماعت پر اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ ایس آئی آر کی مشق کے لیے ججوں کو لگایا جائے گا۔ بنچ نے ہدایت دی کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ججوں کی ایک کمیٹی کے ساتھ، رجسٹرار جنرل اور پرنسپل ڈسٹرکٹ جج ایک ہفتے یا ۱۰؍دنوں   کیلئے عبوری معاملوں کو متبادل عدالت میں منتقل کر سکتے ہیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے ساتھ تعاون کرے۔ ایسا ماحول بنایا جائے جس میں ان کیلئے کام کرنے میں  آسانی ہو۔ بنچ نے کہا کہ اگر ایس آئی آر کا عمل مکمل نہیں  ہوتا توتصورکریں  کہ کیا ہوگا؟
خیال رہے کہ ۹؍فروری کو عدالت نے ریاست مغربی بنگال کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی طرف سے فراہم کردہ افسران کو ڈیوٹی کیلئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ تعینات کیا جائے۔ ریاستی حکومت نے مائیکرو آبزرور کی تعیناتی کیلئے ریاست کے افسران کی ایک لسٹ بھی فراہم کی تھی۔ لیکن آج الیکشن کمیشن نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اچھے اور اہل افسران فراہم نہیں  کررہی ہے۔ اس پرچیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ریاست گروپ اے کے قابل افسران فراہم نہیں کر رہی، نااہل اہلکار عوام کی قسمت کا فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK