۱۸؍ہزار سے زائد گھر ایسے ہیں جنہیں رہائش کے لحاظ سےغیر محفوظ قرار دیا گیا،اسٹرکچرل آڈٹ میں انکشاف۔
شہر میں واقع ایک مخدوش عمارت کی فائل فوٹو- تصویر:آئی این این
ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن (ایم ایم آر) میں مانسون سے قبل ہی پرانی اور خستہ حال عمارتوں کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ بلدیاتی اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پورے خطے میں ۸۲۷؍ عمارتوں کو ’انتہائی خطرناک‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ وہیں، ۱۸؍ہزار سے زائد گھر ایسے ہیں جنہیں رہائش کے لحاظ سے محفوظ نہیں سمجھا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ممبئی کے علاوہ تھانے، کلیان/ ڈومبیولی، بھیونڈی، میرا۔ بھائندر اور الہاس نگر جیسے گنجان آباد علاقوں میں بڑی تعداد میں پرانی عمارتیں مخدوش ہو چکی ہیں۔ ان میں سے کئی عمارتیں ۳۰؍سے ۵۰؍سال پرانی ہیں اور بہت زیادہ کمزور ہوچکی ہیں۔
اسٹرکچرل آڈٹ میں بڑا انکشاف
عمارتو ں کی مضبوطی کی جانچ کرنے والی ’اسٹرکچرل آڈٹ رپورٹ ‘میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی عمارتوں کے ستون (پلّر) اور شہتیر (بیم)کمزور ہو چکے ہیں اور وہ اب بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ایسی عمارتوں کو خالی کرانے کیلئے شہری انتظامیہ نے نوٹس جاری کر دئیے ہیں لیکن مکینوںکے سامنے سب سے بڑا مسئلہ متبادل رہائش کا ہے۔ہزاروں خاندان معاشی مجبوری اور ٹرانزٹ کیمپوں کی کمی کی وجہ سے ان خطرناک مکانات کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کئی مکین جان خطرے میں ڈال کر انہی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
مانسون میں خطرہ بڑھ سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش اور کمزور ڈھانچوں کی وجہ سے مانسون کے دوران حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کسی بھی وقت عمارتوں کے گرنے جیسے بڑے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بی ایم سی اور دیگر میونسپل کارپوریشنوں نے سختی بڑھا دی ہے۔ انتظامیہ نے انتباہ دیا ہے کہ نوٹس ملنے کے باوجود عمارت خالی نہ کرنے والوں کے بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ کئی معاملات میں قانونی تنازعات، ری ڈیولپمنٹ کے منصوبوں میں تاخیر اور بلڈروں پر دھوکہ دہی کے الزامات بھی شہریوں کے گھر خالی نہ کرنے کی بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔