• Sun, 04 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸۶؍سالہ انیس فاطمہ صدیقی ۶۵؍سال سے بچوں کومفت قرآن مجید پڑھارہی ہیں

Updated: January 03, 2026, 2:52 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ڈونگری اوراطراف کے محلوں کے علاوہ بھنڈی بازار، چوربازار، بوہری محلہ اور کرافورڈ مارکیٹ کے بچے بھی ان کے پاس قرآن پڑھنے آچکے ہیں ۔

Anis Fatima Siddiqui listening to a lesson from a child. Photo: INN
انیس فاطمہ صدیقی ایک بچے سے سبق سنتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

یہاں کےامام باڑہ روڈ، کھڈے کی باڑی میں رہائش پزیر ۸۶؍سالہ انیس فاطمہ صدیقی گزشتہ ۶۵؍ سال سے بچوں کومفت میں قرآن مجید کی تعلیم دے رہی ہیں۔ اب تک ہزاروں بچوں نے ان سےقرآن پاک مکمل کیاہے۔ متعدد خانوادوں کی دوسری نسل ان سے استفادہ کررہی ہے۔ بوہرہ جماعت کے بچوں کے علاوہ چند نومسلم لڑکیوں نے بھی ان سے قرآن پاک پڑھنے کا شرف حاصل کیاہے۔ 
انیس فاطمہ صدیقی کی والدہ نے شروع سے اپنے بچوں کی تربیت دینی ماحول میں کی۔ اپنے بچوں کے علاوہ عزیز واقارب کے بچوں کوبھی قرآن کریم کی تعلیم دی۔ والدہ کے اس صالح عمل سے ترغیب حاصل کرکے انیس فاطمہ بھی گزشتہ ۶۵؍سال سے بچوں کو قرآن مجید پڑھارہی ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں احمد آباد کے گومتی پور سے انہوں نے سب سے پہلے اپنے رشتےداروں کی درخواست پر ان کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانا شروع کیا تھا۔ شادی کے بعد۱۹۷۴ءمیں ممبئی منتقل ہونے پر پہلے اپنی بلڈنگ، بعدازیں محلے اور اس کےبعد قرب وجوار کے علاقوں کےبچوں کو پڑھاناشروع کیا۔ اب تک ہزاروں بچوں کو قرآن کریم پڑھاچکی ہیں ، پیرانہ سالی میں بھی پابندی سے بچوں کو پڑھارہی ہیں۔ 
انیس فاطمہ کےمطابق ’’روانی اور بلند آواز سے قرآ ن پڑھنے کی شروع سے عادت رہی ہے۔ ممبئی منتقل ہونے پر اپنے گھر میں قرآن مجید پڑھ رہی تھی۔ تلاوت سن کر ایک دن میری ہمسایہ نے آکرکہا کہ آپ بہت اچھا قرآن پڑھتی ہیں ، اگر ممکن ہوتومیری بیٹی کو قرآن پڑھا دیں۔ اس درخواست پر ان کی بیٹی کوقرآن پڑھانا شروع کیا۔ اس کے بعد بلڈنگ کےدیگر مکینوں نے اپنے بچوں کو قرآن پڑھنے کیلئے بھیجا، اس طرح یہ مہم شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ بچےبڑھتے گئے۔ ایک وقت ایسابھی آیاکہ میرےمکان کے۳ ؍ کمروں میں پچیسوں بچے ایک ساتھ بیٹھ کرقرآن پڑھتےتھے۔ صبح۸؍بجے سے عشاءتک یہ عمل جاری رہتا۔ اسکول کےوقت کی مناسبت سے بچے آکر آدھے سے پوناگھنٹہ قرآن پڑھتےہیں ۔ اطراف کے گلی محلوں کے علاوہ بھنڈی بازار، چور بازار، بوہری محلہ اور کرافورڈ مارکیٹ کےبھی بچے پڑھنےکیلئے آچکےہیں۔ ‘‘ ایک سوال کےجواب میں انہوں نےکہاکہ ’یہ ضرورہےکہ میں سختی سے پڑھاتی ہوں لیکن میری کوشش ہوتی ہےکہ بچے قرآن مجید مکمل پڑھیں ۔ اللہ کاشکر ہےکہ بیشتر بچوں نے قرآن مکمل کیا۔ کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو نقل مکانی سےمیرے پاس قرآن مکمل نہیں کرسکے، جس کاافسوس ہے۔ قرآن کی تعلیم کے علاوہ بچوں کو دعا، حدیث اور نماز پڑھنے کاطریقہ بھی بتاتی ہوں۔ مجھے خوشی ہوتی ہےکہ ان میں کچھ ایسےبھی ہیں جنہیں میں نے قرآ ن پڑھایاہے، ان کی دوسری پیڑھی بھی میرے پاس قرآن پڑھنے آتی ہے۔ ‘‘انیس فاطمہ کےبقول’’اس وقت مجھے بڑی خوشی ہوتی ہےجب میرے پڑھائے ہوئے بچے کہیں مل جاتےہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ’باجی‘ آپ نے مجھے قرآن پڑھایاہے۔ اللہ تعالیٰ میرے اس عمل کو قبول فرمائے۔ آخری دم تک اس خدمت کو انجام دینےکی خواہش ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK