سعودی عرب نے نئے قانون کے تحت عوامی سہولیات کے لیے شریعت کے خلاف ناموں پر پابندی عائد کردی، نئے ضوابط میں عوامی مقامات کی تعریف وسیع پیمانے پر کی گئی ہے جس میں بلدیاتی، تعلیمی، ثقافتی، کھیلوں کے، مذہبی، صحت، نقل و حمل اور دیگر سرکاری اثاثے شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 10:02 PM IST | Riyadh
سعودی عرب نے نئے قانون کے تحت عوامی سہولیات کے لیے شریعت کے خلاف ناموں پر پابندی عائد کردی، نئے ضوابط میں عوامی مقامات کی تعریف وسیع پیمانے پر کی گئی ہے جس میں بلدیاتی، تعلیمی، ثقافتی، کھیلوں کے، مذہبی، صحت، نقل و حمل اور دیگر سرکاری اثاثے شامل ہیں۔
اُم القریٰ گزٹ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سعودی عرب نے پورےمملکت میں عوامی مقامات کے نام رکھنے سے متعلق نئے ضوابط جاری کئے ہیں، جن میں واضح مذہبی و انتظامی پابندیاں شامل ہیں۔سعودی کابینہ کی حال ہی میں منظور شدہ ’’عوامی مقامات کے نام رکھنے کے قواعد و معیارات‘‘ گزٹ میں اشاعت کے۱۲۰؍ دن بعد نافذ ہوں گے اور ملک بھر میں تمام سرکاری ملکیت والے مقامات پر ان کا اطلاق ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: یمنی علاحدگی پسندوں کا آزادی کا مطالبہ، سعودی عرب کا بات چیت پر زور
بعد ازاں ضوابط میں عوامی مقامات کی تعریف وسیع پیمانے پر کی گئی ہے جس میں بلدیاتی، تعلیمی، ثقافتی، کھیل، مذہبی، صحت، نقل و حمل اور دیگر سرکاری اثاثے شامل ہیں۔ہر سرکاری ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں موجود مقامات کا نام نئے متعلقہ قوانین کے مطابق رکھنے کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ ضوابط نام رکھنے کے فیصلوں کی نگرانی کے حکمرانی کے طریقہ کار کے علاوہ تنظیمی، تکنیکی، طریقہ کار اور عملی ضروریات کا احاطہ کریں گے۔ضوابط میں سخت ممانعتیں متعارف کرائی گئی ہیں۔جن میں عوامی مقامات کا نام سعودی عرب کے بادشاہوں، ولی عہدوں یا دوست و اتحادی ریاستوں کے سربراہوں کے نام پر بادشاہ کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا۔کسی بھی ایسے نام کی واضح ممانعت ہے جو اسلامی شریعت کے منافی ہو۔قواعد میں اللہ کے ناموں کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں سے صرف سات نام ہی عوامی مقامات کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے، جو السلام، العدل، الاول، النور، الحق، الشہید، اور الملک ہیں۔ساتھ ہی جب مقامات کا نام افراد کے نام پر رکھا جائے تو متعلقہ اداروں کے تعاون سے اس شخص کی ساکھ کی تصدیق ضروری ہوگی، جس میں اس کا فکری رجحان اور مجرمانہ یا سیکیورٹی ریکارڈ شامل ہے۔منتخب نام اس فرد کی حیثیت اور مقام کے مناسب بھی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بلدیات اور ہاؤسنگ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کے بعد نام رکھنے کے سرکاری زمرے جاری کرے گی اور سرکاری اداروں کو ان درجہ بندیوں پر عمل کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: انجلینا جولی کا رفح بارڈر (مصر) دورہ، زخمی فلسطینیوں سے ملاقات
مقامات کے ناموں کی حتمی منظوری متعلقہ ادارے کے سربراہ کی ذمہ داری ہوگی، جو ضرورت پڑنے پر اس اختیار کو تفویض کر سکتا ہے۔ضوابط کے تحت عوامی مقامات کے ناموں میں عددی ناموں کے استعمال کی اجازت ہے، جو یا تو علاحدہ طور پر یا پھر دیگر ناموں کے ساتھ استعمال ہو سکتے ہیں۔قانون کے مطابق ہم آہنگی اور یکسانیت کو بڑھانے کے لیے ہر سرکاری ادارے کو اپنے دائرہ اختیار میں موجود عوامی مقامات کے ناموں کا جامع ڈیٹا بیس قائم اور برقرار رکھنا ہوگا۔ یہ ریکارڈ باقاعدہ اپ ڈیٹ کیے جائیں اور سالانہ سروے و جیو اسپیشل انفارمیشن جنرل اتھارٹی کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔جبکہ نئے فریم ورک کے تحت کابینہ کے سابقہ فیصلوں میں شامل سڑکوں اور چوک کے نام رکھنے سے متعلق گزشتہ احکامات کو منسوخ کر دیا گیا ہے، ساتھ ہی وہ تمام ضوابط بھی منسوخ ہیں جو تازہ ترین قواعد سے متصادم ہیں۔
واضح رہے کہ یہ اقدام انتظامی طریقوں کو جدید بنانے، عوامی نام رکھنے کو معیاری بنانے اور مذہبی اصولوں، حکمرانی کی ضروریات اور قومی شناخت کے مطابق ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔