ایم این ایس کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُدھو سینا نے اتحاد کے تقاضوں اور طے شدہ معاہدے کی پاسداری نہیں کی
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 10:19 PM IST | Mumbai
ایم این ایس کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُدھو سینا نے اتحاد کے تقاضوں اور طے شدہ معاہدے کی پاسداری نہیں کی
میونسپل کارپوریشن انتخابات میں اُدھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا اور مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے درمیان قائم انتخابی اتحاد نامزدگی واپس لینے کے آخری مرحلے میں اچانک ٹوٹ گیا جس سے شہر کی انتخابی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔طے شدہ سمجھوتے کے مطابق ادھو سینا نے ایم این ایس کو ۱۰؍ نشستیں دینے پر اتفاق کیا تھا، تاہم نامزدگی داخل کرتے وقت اُدھو سینا نے ایم این ایس کے ۵؍ امیدواروں کے مقابل اپنے امیدوار کھڑے کر دئیے۔نامزدگی واپس لینے کے دن اُدھو سینا کے ۲؍ امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس نہیں لئے جس کے باعث دونوں پارٹیوں کے درمیان تناؤ شدت اختیار کر گیا۔
ذرائع کے مطابق نامزدگی واپسی کے دن سے ہی اُدھو سینا گروپ کے امیدواروں کے موبائل فون بند یا ’نوٹ ریچیبل‘ رہے، جبکہ ایم این ایس امیدواروں پر نامزدگی واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ ایم این ایس امیدوار اس پر تیار نہیں تھے مگر مسلسل دباؤ اور غیر یقینی صورتِ حال سے ناراض ہو کر ایم این ایس نے انتخابی عمل سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں ایم این ایس کے ۱۰؍میں سے ۸؍ امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے۔ نامزدگی واپس لینے والے ایک ایم این ایس امیدوار کے مطابق اب صرف ۲؍ امیدوار وارڈ نمبر ۲۰؍ (اے ) سے پراجکتہ پوار اور وارڈ نمبر ۲۳(ڈی ) سے سشیل آوٹےہی انتخابی میدان میں موجود ہیں، جہاں ان کا مقابلہ اُدھو سینا کے امیدواروں سے ہوگا۔ انتخابی مہم کے عین وقت پر شہر سطح پر قائم ایم این ایس اُدھو سینا اتحاد کے مکمل طور پر بکھرنے سے سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ایم این ایس کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُدھو سینا نے اتحاد کے تقاضوں اور طے شدہ معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور جان بوجھ کر ۵؍ نشستوں پر اپنے امیدوار اتار کر ایم این ایس کو نقصان پہنچایا۔
ایم این ایس امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے میونسپل انتخابات کی تیاری کر رہے تھے، مگر نشستوں پر شفاف اور واضح سمجھوتہ نہ ہونے کے باعث پوری حکمتِ عملی متاثر ہو گئی۔اس اچانک سیاسی پیش رفت سے ایم این ایس کے کارکنان میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پارٹی حلقوں کے مطابق اب سینئر قیادت کے فیصلے کے بعد ہی آئندہ لائحۂ عمل طے کیا جائے گا جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتحاد کے ٹوٹنے سے بھیونڈی کی کئی نشستوں پر مقابلہ مزید سخت اور غیر یقینی ہو گیا ہے۔