دہلی فساد کیس میں ماخوذ کئے گئے ۶؍ مسلم نوجوان باعزت بری

Updated: January 13, 2022, 8:33 AM IST | new Delhi

ملزمین سے ریمانڈ کے دوران لئے گئے بیان کو کورٹ نے ثبوت ماننے سے انکار کردیا، کہا کہ قانون کی نظر میں ان کی کوئی  اہمیت نہیں،فرد جرم عائد ہونے سے قبل ہی ملزم ڈسچارج

Delhi Police is accused of targeting Muslims in the riots and was later made an accused. (File photo)
دہلی پولیس پر الزام ہے کہ فساد میں مسلمان ہی نشانے پررہے اورانہیں ہی بعد میں ملزم بھی بنا دیاگیا۔ (فائل فوٹو)

 دہلی کی ایک مقامی عدالت نے بدھ کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے شمال مشرقی دہلی  کے فساد کے ایک کیس میں ماخوذ کئے گئے  ۶؍ مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردیا۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت  نے ملزمین کو بری کرنے کاحکم سناتے ہوئے نشاندہی کی کہ ملزمین  کے خلاف جو واحد ثبوت پولیس پیش کرسکی وہ گرفتاری کے بعد ریمانڈ میں دیا گیا ان کا وہ  ’’انکشافی بیان‘‘ تھا جو پولیس نے درج کیاتھا۔ کورٹ نے دوٹوک لہجے میں کہا کہ ایسے بیانات کی   قانون کی نظر میں  کوئی اہمیت نہیں ہے۔ 
 اس کے ساتھ ہی کورٹ نے عامر، صدام، محمد رئیس، عامر، اکرم اور وسیم کو بری کرنے کا حکم سنایا۔ انہیں پولیس نے  تعزیرات ہند کی دفعات ۱۴۷، ۱۴۸، ۴۲۷، ۴۳۶؍ اور ۱۴۹؍ کے تحت ملزم بنایا  گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر ۵۸/۲۰۲۰؍ جیوتی نگر پولیس اسٹیشن میں ڈی ڈی انٹری کی بنیاد پردرج کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی جب وہ امبیڈکر کالج کے پیچھے پارکنگ لاٹ میں پہنچی تو  فسادیوں کے ذریعہ ۲؍ ٹریکٹر اور ۳؍ سے ۴؍ رہڑیاں جلائی ہوئی  حالت میں ملیں۔ پولیس کے مطابق  اسے  وہیں پہنچ کر یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں ۶؍ سو سے ۷؍سو فسادیوں  کی بھیڑ نعرے بازی کررہی تھی۔ اس میں شامل افراد سلاخوں اور آتشیں مادہ سے لیس تھے۔ 
  بہرحال کورٹ میں وہ ملزمین سے حاصل کئے گئے بیانات کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکی۔ عدالت نے ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کا کوئی گواہ نہیں ہے، نہ عام شہری نہ پولیس اہلکار، جو یہ بتاسکے کہ اس نے ملزمین کو جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ ’’چارج شیٹ اور اس سے ملحق دستاویزات کی   بنیاد پر  میں اس رائے کا حامل ہوں کہ اس میں  ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جن کی بنیاد پر ملزمین  پر فرد جرم عائد کی جاسکے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK