مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ، عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھے گا

Updated: December 24, 2021, 11:09 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستان کے ساتھ بڑی معیشتیں بھی  مہنگائی سے متاثر، حالیہ رجحان سے ماہرین معاشیات فکر مند ہیں کہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی

At a general store, customers pay for items purchased..Picture:INN
ایک جنرل اسٹور پر گاہک خریدی گئی اشیاء کی رقم ادا کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

 کورونا وباء سے ہونے والے معاشی نقصان کا ازالہ اب تک نہیں ہوپایا ہے۔ اسی درمیان کووڈ ۱۹؍وباء کی تیسری لہر کا بحران بھی سرپر آپہنچا ہے۔ اسی سبب مہنگائی دنیا بھر میں تشویشناک سطح پر پہنچ گئی ہے اور ماہرین معاشیات فکر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ابھی تک مہنگائی کا جو رجحان دیکھا جارہا ہے اس کے حساب سے ماہرین کا اندازہ ہے کہ نیا سال عام لوگوں کی جیب پر بوجھ بڑھانے والا ثابت ہوگا۔
مہنگائی۳۰؍ سال کی بلند سطح پر!
 اس ضمن میں’آج تک ‘کی ایک  رپورٹ  کے مطابق ملک میں کنزیومر پرائس انڈیکس  (سی پی آئی ) پر مبنی خوردہ مہنگائی (ریٹیل انفلیشن) ابھی ۴ء۹؍ فیصد پر ہے ۔ چونکہ یہ ریزرو بینک آف انڈیا  کو دئیے گئے ہدف کے دائرے میں ہے، اسے بہت زیادہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ راحت کی سانس لینے لائق سطح بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی ) پر مبنی تھوک مہنگائی  پچھلے ماہ ۱۴ء۲۳؍ فیصد پر رہی ہے۔ یہ سطح  باعث  تشویش ہے۔ کیونکہ یہ ۳؍ دہائی کی سب سے اونچی شرح ہے۔ قبل ازیں اپریل ۱۹۹۲ء میں تھوک مہنگائی ۱۳ء۸؍ فیصد پر تھی۔ لگاتار آٹھویں ماہ میں تھوک مہنگائی ۱۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ 
سبھی اہم ممالک میں مہنگائی تاریخی سطح پر!
 دیگر اہم معیشتوں کو دیکھیں تو امریکہ میں پچھلے ماہ مہنگائی کی شرح ۶ء۸؍ فیصد رہی جو تقریباً ۴۰؍ سال بعد کی سب سے اونچی شرح ہے۔ برطانیہ میں مہنگائی ایک دہائی سے زیادہ وقت کی اونچی سطح ۴ء۲؍ فیصد ہے۔ فرانس کی بھی لگ بھگ یہی صورتحال ہے، جہاں مہنگائی کی شرح نومبر میں ۳ء۴؍ فیصد کے ساتھ دہائی کی سب سے اونچی سطح پر ہے۔ پچھلے ماہ جاپان میں بھی تھوک مہنگائی ۴۰؍سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں پچھلے ماہ مہنگائی کی شرح ۵ء۲؍ فیصد کیساتھ ۲۹؍ سال کی بلند سطح پر ہے۔ 
تھوک مہنگائی کی یہ سطح ٹھیک نہیں ہے
 ہندوستان میں خوردہ مہنگائی بھلے ہی ریزروبینک کو دئیے گئے ہدف کے دائرے میں  ہو، لیکن یہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ جس  طرح سے تھوک مہنگائی ریکارڈ بلندی پر ہے،  آئندہ کچھ ماہ میں خوردہ مہنگائی کے بڑھنے کا صاف اشارہ ہے۔ ماہرین معاشیات کو یہ بات زیادہ پریشان کررہی ہے کہ تھوک مہنگائی کی اس تشویشناک سطح کے پیچھے اہم وجہ ’سپلائی سائیڈ‘ کی دقتیں ہیں۔ یہ  اچھا اشارہ نہیں ہے، بالخصوص تب جب ہمارے سامنے وباء کی نئی لہر اٹھنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ 
اکنامسٹ ڈاکٹر سدھانشو کا دعویٰ
 سینٹر فار اکنامک پالیسی اینڈ پبلک فائنانس (سی ای پی پی ایف) کے اکنامسٹ ڈاکٹر سدھانشو کمار نے بتایا کہ ہندوستان میں بڑھتی مہنگائی کیلئے  صرف سپلائی ڈیمانڈ کا توازن بگڑنا ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ خام تیل سمیت دیگر بیرونی فیکٹر بھی دباؤ بڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی تاریخی سطح پر ہے اور ہم اس سےمحفوظ نہیں ۔تاخیر سے ہی سہی مگر یہاں اس کا اثر دکھائی دے گا۔ ایسے میں اگر آربی آئی شرح سود فوراً نہیں بڑھاتا ہے تو مہنگائی کی سطح ہدف کے دائرہ سے پار کرجائے گی۔ 
مصنوعات کے دام بڑھنا یقینی: انیتھا رنگن
 ایکوریئس کی ماہر معاشیات انیتھا رنگن بھی ڈاکٹر سدھانشو کی بات سے متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آربی آئی کے ’اے کموڈیٹیو اسٹانس‘ کے لئے مہنگائی سب سے بڑا جوکھم ہے۔ ابھی تک خوردہ مہنگائی بہت زیادہ نہیں بڑھی ہے۔ کیونکہ اس میں اشیائے خوردونوش  کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ حالانکہ اشیائے خورد و نوش کے بنیادی اثرات میں’ ریورسل‘ دکھائی دینے لگا ہے ۔ چونکہ تھوک مہنگائی زیادہ  ہے، مان کر چلئے کہ اگلے سال مارچ اپریل میں خوردہ مہنگائی ۶؍ فیصد کے دائرے کے پار نکل جائے گی۔ یہ صورتحال  مالیاتی سال ۲۳۔۲۰۲۲ء  میں برقرار رہ سکتی ہے۔  نتیجہ یہ ہوگا کہ کمپنیاں، مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گی اور اس کا بوجھ عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔ 
 قابل ذکر ہے کہ خوردہ مہنگائی میں تقریباً ۴۶؍فیصد کی شراکت داری تنہا اشیائے خورد ونوش کی ہوتی ہے۔ جوتے -چپل اور کپڑے، ایندھن اور بجلی ، پان  تمباکوجیسی اشیاء کا حصہ ملاکر بھی تقریباً ۱۵؍ فیصد ہوپاتا ہے ۔ جبکہ عام لوگوں کے خرچ میں ان کی کافی حصہ داری ہوتی ہے۔ ان کےعلاوہ خدمات کی حصہ داری بھی سی پی آئی میں بہ نسبت کم ہوتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK