شاہین باغ میں طلبہ کے گروہ بھی سی اے اے کیخلاف سرگرم

Updated: January 15, 2020, 2:51 PM IST | Afroz Alam Sahil | New Delhi

تیرہ جنوری کی رات تقریباً ساڑھے ۱۱؍ بجے ہیں۔ ہمارے نوجوان ڈھول- نگاڑے کی دھن پر تھرکتے ہوئے لوہڑی کا جشن منا رہے ہیں ساتھ ہی ان کے لبوں پر ایک ہی نعرہ ہے ’آواز دو ہم ایک ہیں‘۔ قریب ہی نوجوانوں کا ایک اور گروپ سڑک پر بنی ہندوستان کی تصویر جس میں ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی اتحاد کا پیغام دیا گیا ہے۔

شاہین باغ میں طلبہ کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی
شاہین باغ میں طلبہ کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

تیرہ جنوری کی رات تقریباً ساڑھے ۱۱؍ بجے ہیں۔ ہمارے نوجوان ڈھول- نگاڑے کی دھن پر تھرکتے ہوئے لوہڑی کا جشن منا رہے ہیںساتھ ہی ان کے لبوں پر ایک ہی نعرہ ہے ’آواز دو ہم ایک ہیں‘۔ قریب ہی نوجوانوں کا ایک اور گروپ سڑک پر بنی ہندوستان کی تصویر جس میں ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی  اتحاد کا پیغام دیا گیا ہے ، کو گھیرے کھڑے ہیں اور فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے ، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے...‘ گا رہے ہیں۔ یہ وہی نظم ہے جس پر آئی آئی ٹی کانپور ریسرچ کررہی ہے کہ یہ نظم بھارت کے ہندوؤں کے خلاف تو نہیں۔ جیسے ہی یہ نظم ختم ہوتی ہے ، یہ نوجوان حبیب جالب کی نظم ’ایسے دستور کو ، صبح بے نور کو ، میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا ...‘ گانا شروع کردیتے ہیں۔ قریب ہی کھڑا ایک تیسرا گروپ ایک ساؤنڈ باکس پر ’اے وطن  ، اے وطن آباد رہے تو ....‘ گانے کی دھن پر جھوم رہا ہے۔ وہیں منچ پر ایک لڑکی مائک سنبھالے ہوئے ہے۔ آزادی کے نعرے کے بعد ایک حب الوطنی پر گانا گانے کیلئے ایک نوجوان کو دعوت دی جاتی ہے۔ وہ نوجوان ’میرا ملک ،میرا دیش ، میرا یہ وطن ، شانتی کا،  اننتی کا ، پیار کا چمن ... ‘ گانے سے سب کے دلوں میں وطن کی محبت بھردیتا ہے۔ تمام خواتین اور لڑکیاں ترنگا لہراتے ہوئے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔
 یہ نظارہ پوری دنیا میں مشہور ہوچکے شاہین باغ کا ہے جہاں گزشتہ ایک مہینے سے عورتیں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف احتجاج کررہی ہیں اور دہلی پولیس نیز بی جے پی لیڈروں کی تمام دھمکیوں کے باوجود سردی کے اس موسم میں بھی ڈٹی ہوئی ہیں۔
 ملک کی راجدھانی دہلی ، ہریانہ کے شہر فریدآباد اور اترپردیش کے نوئیڈا شہر کو جوڑنے والی یہ سڑک گزشتہ ایک مہینے سے پوری طرح بند ہے۔ کالندی کنج کی طرف بڑھنے پر آپ کو سڑکوں پر ہی طرح طرح کی پینٹنگز  نظر آئیں گی۔ جو ملک کے اتحاد اور یکجہتی کی حمایت میں اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پیغام دے رہی ہیں۔ پیچھے کی جانب فنکاروں نے ایک انڈیا گیٹ بھی بنایا ہے جہاں نوجوان سیلفی لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس سے آگے کچھ فنکار لوہے سے ایک وشال بھارت کے نقشے کی تخلیق میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ کام جادھوپور یونیورسٹی سے آئے ہوئے پون شکلا کی نگرانی میں ہورہا ہے۔
 آپ اس احتجاج کو کیسے دیکھتے ہیں ؟ اس سوال پر پون شکلا کہتے ہیں کہ ’’میں اس احتجاج کو ایک آغازکے طورپر  دیکھتا ہوں جس طرح سے یہ ہمارے ملک کے وزیراعظم اور اقتدار میںبیٹھے ہمارے نمائندوں نے اپنے سامعین بنالئے ہیں۔ اب وہ جو بھی باتیں کہتے ہیں ، اپنے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ایسے میں شاہین باغ ایک بہت ہی مضبوط آواز ہے ، ان لوگوں کیلئے جنہیں ہماری حکومت نظرانداز کردینا چاہتی ہے۔‘‘
 شہریت ترمیمی قانون پر پون شکلا کی رائے یہ ہے کہ ابھی ملک میں جس طرح کا قانون نافذ کیا جارہا ہے ، اس کے پس پشت جو بھی حکمت عملی ہے ، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ میری سمجھ میں یہ ’سٹیزن شپ گھوٹالا‘ ہے۔ اس میں جو اوپر سے دکھ رہا ہے ، اندر ویسا ہی نہیں اور اس اندر کے بارے میں ہماری حکومت چرچا نہیں کررہی ہے۔ بتانہیں رہی ہے ۔ سوال پوچھنے پر ان سوالوں کو ایڈریس بھی نہیں کررہی ہے۔ یہ قانون سماج کو تقسیم کرنے والا ہے۔
 پون شکلا بنیادی طورپر فنکار ہیں۔ ان دنوں جادھوپور یونیورسٹی سے کمپریٹیو لیٹریچر میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ان کے مطابق گزشتہ ۲۰؍ دن سے وہ مسلسل شاہین باغ میں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ جو ثقافتی خلاء ہے ، حکومت اور عوام کے درمیان ، اسے فن کے ذریعے پُر کیا جائے۔‘‘
 جامعہ کے طالب علم عمراشرف بتاتے ہیں کہ وہ دن میں جامعہ میں ہوتے ہیں اور رات کے وقت اس شاہین باغ کیلئے ہیں۔ عمر کی دلچسپی تاریخ میں کافی ہے۔ وہ ’ہیرٹیج ٹائمز‘ نامی ایک ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں۔
 عمرکا کہنا ہے کہ تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے۔ ٹھیک ۱۰۰؍ سال قبل محمد علی جناح کی ماں ’بی اماں‘ یعنی عابدی بیگم  پورے ہندوستان کا دورہ کررہی تھیں ، ہر شہر ، ہر گاؤں اور ہر محلے تک عدم تعاون اور خلافت کا پرچم لے کر جارہی تھیں ، گلی سے لے کر نکڑ تک انگریزحکومت کے ذریعے لائے گئے کالے قانون ’رائل ایکٹ‘ کے خلاف شروع ہوئے عدم تعاون کی حکمت عملی کی تشہیر کررہی تھیں۔ ٹھیک ۱۰۰؍ سال بعد خواتین پھر سے سڑکوں پر ہیں۔ ان دادیوں نے صاف کردیا ہے کہ یہ حکومت کےسامنے اور ان کے کالے قانون کے سامنے بالکل نہیں جھکیں گی۔
 اس احتجاج میں سوربھ واجپئی بھی نظر آتے ہیں۔ وہ مسلسل کئی دنوں سے یہاں آرہے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے اپنی ۸۰؍ سالہ ماں پشپا واجپئی اور اپنی بڑی بہن نویدتا کے ساتھ ساتھ اپنے پورے خاندان کے دیگر افراد کو لے کر آئے تھے تب پشپا واجپئی یہاں کسی اہم شخصیت سے کم نہیں تھیں۔
 سوربھ واجپئی بتاتے ہیں کہ آزادی کے ان ۷۰؍ برسوں میں مسلمان کبھی بھی اتنے اعتماد کے ساتھ خود ایک ادارہ بن کر سڑکوں پر کبھی نہیں اترا تھا لیکن اس قانون کے خلاف پہلی بار اترا ہے۔ شاہین باغ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کی ایک علامت بن چکا ہےجس کی اب پورے ملک میں نقل کی جارہی ہے۔ سوربھ دہلی یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں۔
 میں اب اپنے گھر کی طرف لوٹ رہا ہوں ۔ سڑکیں سنسان ہیں ۔ کسی سواری کا دوردور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ تبھی ایک جناب بائیک میرےقریب روکتے ہیں۔ مجھ سے کہتے ہیں کہ آیئے  ، آپ کو آگے تک چھوڑدوں۔ بائیک پر بیٹھنے کے بعد میں ان سے بات چیت شروع کرتا ہوں۔ ان کا نام سلیمان ہے۔ بتاتے ہیں کہ گھر کی تمام خواتین شاہین باغ میں ہیں۔ تو پھر آپ واپس کیوں جارہے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ بچے گھر میں اکیلے ہیں۔ صبح بچوں کو اسکول جانا ہے۔ آخر ان کا اسکول جانا بھی تو ضروری ہے۔ ملک کے مستقبل تو وہی ہیں نا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK